پوپ بینیڈکٹ: سوانحی خاکہ

آخری وقت اشاعت:  پير 11 فروری 2013 ,‭ 13:19 GMT 18:19 PST

کارڈینل جوزف ریٹزنگر کبھی بھی پوپ بننا نہیں چاہتے تھے

پیر کے روز ویٹیکن نے ایک حیرت انگیز اعلان میں کہا کہ پوپ شانزدہم 28 فروری کو کیتھولک چرچ کے پوپ کے عہدے سے مستعفی ہو جائیں گے۔ پوپ نے ایک بیان میں اس کی وجہ خرابیِ صحت بتائی۔

پوپ بینیڈکٹ نے اپنے دور میں کئی چیلنجوں کا سامنا کیا۔

2005 میں جب سابق کارڈینل جوزف ریٹزنگر 78 برس کی عمر میں پوپ بنے وہ اس وقت وہ پوپ بننے والے معمر ترین افراد میں شامل ہوگئے تھے۔

جب پوپ جان پال دوم کا انتقال ہوا تو اس وقت کارڈینل جوزف ریٹزنگر ریٹائرمنٹ کے بارے میں سوچ رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ کبھی بھی پوپ بننا نہیں چاہتے تھے۔

جب انھوں نے اپنا عہدہ سنبھالا تو اس وقت کیتھولک چرچ ایک بہت بڑے بحران سے گزر رہا تھا۔ اسی دوران یہ خبریں آنا شروع ہوئی تھیں کہ پادری بچوں کو زیادتی کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔

اس کے علاوہ دوسری فاش اغلاط، حادثات اور سکینڈلوں کی وجہ سے چرچ کے اندر اور باہر کے ناقدین کو پوپ پر تنقید کرنے کے لیے خاصا مواد فراہم ہو گیا تھا۔

دراصل جس وقت انھوں نے اپنے عہدہ سنبھالا اس وقت تیزی سے تبدیل ہونے والی دنیا نے چرچ کے ادارے کے لیے متعدد چیلنج کھڑے کر دیے تھے جس کی روایات دو ہزار سال پرانی ہیں۔

ان کے دور کی نمائندہ بات پادریوں کے خلاف الزامات، مقدمات اور سرکاری رپورٹیں تھیں، جو 2009 اور 2010 میں اپنے عروج پر پہنچ گئیں۔

اس دوران سب سے خطرناک وہ دعوے تھے کہ نہ صرف مقامی لاٹ پادری، بلکہ خود ویٹیکن بھی زیادتی کے بہت سے واقعات پر پردہ ڈالنے، اور بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنانے والے پادریوں کو سزائیں دینے میں پس و پیش برتنے کے ذمے دار تھا۔ بعض اوقات تو پادری کو محض کسی اور علاقے میں تبدیل کر دیا جاتا تھا جہاں وہ نئے سرے سے اپنی مجرمانہ کارروائیاں شروع کر دیتا تھا۔

ویٹی کن کے بعض سینیئر ارکان نے پہلے تو میڈیا پر برسنا شروع کر دیا یا پھر الزام لگایا کہ یہ کیتھولکوں کے خلاف سازش ہے۔ تاہم پوپ نے کہا کہ چرچ کو ذمے داری قبول کرنی چاہیے، اور ’چرچ کے اندر گناہ‘ کی نشان دہی کی۔

وہ زیادتی کا شکار افراد سے ملے اور ان سے معافی مانگی جس کی پہلے نظیر نہیں ملتی۔ انھوں نے واضح کیا کہ پادری لازماً زیادتی کے واقعات کی نشان دہی کریں اور مجرموں کی تیز رفتار معزولی کے اصول وضع کیے۔

پوپ منتخب ہونے سے قبل کارڈینل ریٹزنگر ویٹیکن میں اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے۔ انھی عہدوں کی وجہ سے انھیں پادریوں کی طرف سے زیادتی کے واقعات پر نظر رکھنے کا عمدہ موقع فراہم کیا۔

"اگر جان پال دوم پوپ نہ ہوتے تو وہ فلم سٹار ہوتے، اگر بینیڈکٹ پوپ نہ ہوتے تو وہ کسی یونیورسٹی میں پروفیسر ہوتے۔"

ویٹی کن کے امریکی ماہر جان ایل ایلن

ناقدین کا کہنا ہے کہ انھوں نے جرائم کی سنگینی کا احساس نہیں کیا، جس کی وجہ سے ان پر برسوں تک توجہ نہیں دی جا سکی۔ یہ بھی کہا گیا کہ انھوں نے جرائم کا نشانہ بننے والوں کی فلاج پر چرچ کی بہبود کو مقدم رکھا۔

تاہم ان کے حامی کہتے ہیں کہ انھوں نےاس مسئلے پر کسی بھی پوپ سے زیادہ توجہ دی۔

جوزف ریٹزنگر 1927 میں جرمنی کے ایک روایتی گھر میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد پولیس اہل کار تھے۔

وہ پوپ بننے والے آٹھویں جرمن ہیں اور کئی زبانیں بولتے ہیں۔ وہ موسیقی کے رسیا اور موتسارٹ اور بیٹووِن کے مداح ہیں۔

وہ 14 سال کی عمر میں ہٹلر کی تنظیم ’ہٹلر یوتھ‘ میں بھرتی ہوئے جیسا کہ اس وقت جرمنی کے ہر نوجوان پر لازم تھا۔ تاہم وہ اس تنظیم کے کبھی بھی سرگرم رکن نہیں رہے۔

وہ جرمنی کے شہر ٹرسٹین کے ایک مذہبی سکول میں زیر تعلیم تھے جب دوسری جنگ عظیم سے قبل انہیں میونخ کے قریب ایک ’اینٹی ایئر کرافٹ‘ یونٹ میں بھرتی کر لیا گیا۔

تاہم جنگ کے آخری دنوں میں انہوں نے جرمن فوج کو چھوڑ دیا اور 1945 میں کچھ دنوں تک اتحادی فوج کی قید میں بھی رہے۔

ان کے حامیوں اور مداحوں کا خیال ہے کہ جرمن فوج میں ملازمت کے دوران وہ اس بات کے معترف ہوگئے تھے کہ چرچ یا کلیسا ہی کو سچ اور آزادی کے لیے کھڑا ہونا پڑے گا۔

کارڈینل ریٹزنگر جب پوپ بنے تو ان کے لیے اپنے کرشماتی پیش رو پوپ جان پال دوم کی جگہ پر کرنا آسان کام نہیں تھا۔

ویٹی کن کے امریکی ماہر جان ایل ایلن کہتے ہیں، ’اگر جان پال دوم پوپ نہ ہوتے تو وہ فلم سٹار ہوتے، اگر بینیڈکٹ پوپ نہ ہوتے تو وہ کسی یونیورسٹی میں پروفیسر ہوتے۔‘

ان کے جاننے والے کہتے ہیں کہ وہ منکسر مزاج اور نرم خو تھے لیکن ان کا اخلاقی مرکز بہت مضبوط تھا

ان کی شہرت مذہبی قدامت پسند کی تھی اور وہ ہم جنس پرستی، خواتین پادریوں اور مانعِ حمل ادویات کے معاملے پر خاصے سخت گیر تھے۔

ان کے عہدے کی نمایاں خصوصیت ان کے خیال میں اخلاقی پستی کے شکار یورپ میں بنیادی عیسائی اقدار کا دفاع تھا۔

ان کے جاننے والے ان کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ منکسر مزاج اور نرم خو تھے لیکن ان کا اخلاقی مرکز بہت مضبوط تھا۔

پوپ کے دور کی ایک اور نمایاں بات ان کی زبان اور اقدامات سے مسلمانوں، یہودیوں اور پروٹسٹنٹوں کی دل آزاری تھی۔ حامیوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات پوپ کی جانب سے بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینے کی کوششوں کی غلط تعبیر ہے۔

انھوں نے دوسرے مذاہب کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ اس سلسے میں انھوں نے استنبول کی مسجد سلطان احمد اور یروشلم کے قبۃ الصخرہ اور یہودیوں کی مقدس مغربی دیوار کا دورہ کیا۔

وہ ہمیشہ یہ سمجھتے تھے کہ چرچ کی قوت ایک ابدی سچائی سے آتی ہے اور اسے وقت کی ہوائیں متزلزل نہیں کر سکتیں۔ اس نقطۂ نظر کی وجہ سے ان لوگوں کو مایوسی ہوئی جو یہ چاہتے تھے کہ چرچ اپنے آپ کو بدلتے ہوئے زمانے کے ساتھ ڈھال لے۔

لیکن ان کے حامی کہتے ہیں کہ اس مشکل دور میں وہ چرچ کا اعلیٰ ترین عہدہ سنبھالنے کے سب سے زیادہ مستحق تھے۔

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔