نائجیریا: صحافیوں پر پولیو کے کارکنوں کی ہلاکت کا مقدمہ

آخری وقت اشاعت:  بدھ 13 فروری 2013 ,‭ 20:58 GMT 01:58 PST

شمالی نائیجیریا میں بعض مسلمان رہنماؤں کا خیال ہے کہ پولیو کے قطرے پینے سے عورتیں پانجھ ہو جاتی ہیں

نائجیریا میں دو صحافیوں پر گذشتہ جمعے کو کانو شہر میں نو پولیو کے قطرے پلانے والے خواتین اہلکاروں کی ہلاکت کے الزام میں مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔

ان صحافیوں پر سازش کرنے اور افراتفری پھیلانے کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

ان ہلاکتوں سے دو دن پہلے ان صحافیوں کے وازوبیا ایف ایم ریڈیو سٹیشن نے مسلم آبادی والے شمالی علاقے میں پولیو کے مخالفین کے خیالات نشر کیے تھے۔

کانو شہر کے پولیس سربراہ ابراہیم ادریس نے اس سے پہلے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ان صحافیوں پر قتل کا مقدمہ چلایا جائے گا۔ لیکن خبری رساں ادارے اے پی کے مطابق کانو میں عدالت میں کیس کی سماعت کے دوران استغاثہ کے وکلاء نے صحافیوں پر کم درجہ کے الزامات لگائے۔ جس میں سازش کرنا، افراتفری پھیلانا اور سرکاری کام میں مداخلت شامل ہیں۔

وازوبیا ایف ایم ریڈیو سٹیشن کے سربراہ سانوسی کانکاروفی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ایک تیسرے صحافی کو پولیس نے پوچھ گچھ کے بعد رہا کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ ایک آدمی کو جو ان کے مشہور پروگرام ’ساندار گیرما‘ میں شریک ہوا اور جسے مبینہ طور پر حکام نے ان کے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے پر مجبور کیا تھا، پولیس نے گرفتار کیا ہے۔

دوسری طرف خبر ساں ادارے اے پی کے مطابق نیو یارک میں صحافیوں کے تحفظ کی کمیٹی کے اہلکار محمد کائٹا کا کہنا تھا کہ انہیں صحافیوں کی گرفتاری پر ’دکھ‘ ہوا ہے کیونکہ ریڈیو پروگرام کا پولیو کے قطرے پلانے والے اہلکاروں کی ہلاکت کے ساتھ کوئی واسطہ دکھائی نہیں دیتا۔

انہوں نے کہا کہ’ہم نائجیریا کے حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ان صحافیوں کے ساتھ قانون کے مطابق سلوک کریں۔‘

یاد رہے کہ نائجیریا میں صحافی اکثر پولیس اور خوفیہ اداروں کے ہاتھوں ہراساں ہونے کی شکایت کرتے ہیں۔

شمالی نائیجیریا میں بعض مسلمان رہنماؤں کا خیال ہے کہ پولیو کے قطرے پینے سے عورتیں پانجھ ہو جاتی ہیں۔ اور وہ پولیو کے قطرے پلانے کے مہم کو مسلمانوں کی آبادی کو کم کرنے کے لیے مغربی دنیا کی طرف سےایک سازش سمجھتے ہیں۔

پولیو کے قطرے پلانے کی مہم کی مخالفت کی وجہ سے نائجیریا دنیا کے ان تین ممالک میں شامل ہی جہاں یہ بیماری مقام طور پر پائی جاتی ہے۔

گلوبل پولیو اراڈیکیشن انیشیٹیو کے مطابق نائجیریا میں گذشتہ سال 121 پولیو کے کیسز سامنے آئے جبکہ پاکستان میں 58 اور افغانستان میں 37 پولیو کیسز سامنے آئے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔