اسرائیل نے آسٹریلوی شہری کی ’دورانِ قید ہلاکت‘ کی تصدیق کردی

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 14 فروری 2013 ,‭ 00:12 GMT 05:12 PST

وزارتِ انصاف نے یہ بھی کہا کہ اس آدمی نے 2010 میں جیل میں خودکشی کی تھی

اسرائیل نے پہلی بار اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ اس نے آسٹریلوی نژاد اسرائیلی شخص کو سکیورٹی وجوہات کی بنا پر جعلی شناخت کی وجہ سے قید کر دیا تھا۔ یہ شخص جیل میں ہلاک ہو گیا تھا۔

اسرائیل کے وزارتِ انصاف نے ’قیدی X‘ کے نام سے جانے والے شخص کا اصلی نام لیے بغیر بتایا کہ ان کے خاندان کو اس بارے میں مطلع کیا گیا تھا اور انہیں عدالتی احکامات کے مطابق قید میں رکھا گیا تھا۔

وزارتِ انصاف نے کہا کہ’سکیورٹی وجوہات کی بنا پر قیدی کو نقلی نام کے ساتھ جیل می رکھا گیا لیکن ان کی گرفتاری کے فوراً بعد ان کے خاندان کو مطلع کیا گیا تھا۔‘

وزارتِ انصاف نے یہ بھی کہا کہ اس آدمی نے 2010 میں جیل میں خودکشی کی تھی۔

دوسری طرف آسٹریلیا کے وزیر خارجہ باب کار نے دوہزار دس میں اسرائیل کی جیل میں اس آسٹریلوی شہری کی مبینہ پھانسی کے معاملے میں اپنی وزارت کے کردار کی از سرِ نو تفتیش کا اعلان کیا تھا۔

منگل کو آسٹریلیا کے اے بی سی نیوز چینل نے کہا تھا کہ مبینہ طور پر پھانسی ہونے والا شخص جنہیں ’قیدی X‘ کہا جاتا تھا، ان کا تعلق آسٹریلیا سے تھا اور ان کا نام بین زائیگر تھا۔

اے بی سی کے مطابق اسرائیلی حکام نے زائیگر کو حراست میں رکھنے کی وجوہات نہیں بتائی تاہم ان کی شناخت کو اتنا خفیہ رکھا گیا تھا کہ ان کے محافظوں کو بھی پتہ نہیں تھا کہ وہ کون ہے۔

دریں اثنا آسٹریلیا کے خبر رساں ادارے فئیر فیکس میڈیا نے بدھ کو خبر دی کہ اسرائیل میں گرفتاری سے کئی مہینوں پہلے بین زائیگر سے آسٹریلیا کا سکیورٹی انٹیلیجنس ادارہ جاسوسی کے لیے اپنا پاسپورٹ استعمال کرنے کے شک میں تحقیقات کر رہی تھی۔

جب ان پر یہ الزمات لگائے گئے تو اطلاعات کے مطابق انہوں نے کہا کہ’میں کسی قسم کے جاسوسی کے کام میں ملوث نہیں ہوں۔ یہ مضحکہ خیز بات ہے۔‘

فئیر فکس کے مطابق آسٹریلیا کا سکیورٹی انٹیلیجنس ادارہ کم از کم تین دوہری شہرت رکھنے والے افراد سے تحقیقات کر رہی تھا۔ان افراد نے اسرائیل ہجرت کی تھی لیکن یہ افراد نام تبدیل کرنے اور نئے پاسپورٹ لینے کے لیے کم از کم دو دفعہ آسٹریلیا واپس آئے۔خبر رساں ادارے کے مطابق ان دستاویزات کی مدد سے انہوں نے ایران، شام اور لبنان کا سفر کیا۔

یاد رہے کہ اے بی سی کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ اس طرح کے شواہد موجود ہیں کہ زائیگر اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساعد کے لیے کام کرتے تھے۔

اس سے پہلے آسٹریلیا کے وزیر خارجہ باب کار نے بتایا تھا کہ اسرائیل میں آسٹریلوی سفارتکار کو بین زائیگر کی حراست کی خبر ان کی موت کے بعد ہوئی تھی۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ زائیگر کے خاندان والوں نے اس معاملے میں کوئی شکایت نہیں کی، ایسے میں آسٹریلیائی حکومت کچھ زیادہ نہیں کرسکتی تھی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔