بنگلہ دیش: مسلح جھڑپوں میں تین افراد ہلاک

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 16 فروری 2013 ,‭ 23:48 GMT 04:48 PST

جماعتِ اسلامی نے ان ہلاکتوں کے خلاف ملک بھر میں پیر کو ہڑتال کرنے کا اعلان کیا ہے

بنگلہ دیش میں جنگی جرائم کی ٹربیونل کی طرف سے جماعتِ اسلامی کے رہنما کو سزا سنانے کے فیصلے کے خلاف مظاہروں میں تین افراد ہلاک ہو گئے۔

یہ ہلاکتیں جمعہ کو بنگلہ دیش کے قصبے کاکس بازارمیں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں ہوئیں۔

ایک سینئیر پولیس اہلکار محمد آزاد میاں نے بی بی سی بنگالی سروس کو بتایا کہ جماعتِ اسلامی کے تین اہلکار پولیس کے ساتھ مسلح جھڑپ کے دوران ہلاک ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ مظاہرین نے پولیس کے خلاف آتشی اسلحہ اور گھریلو ساختہ بموں کا استعمال کیا۔

پولیس افسر نے بتایا ’ہم نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پہلے آنسو گیس اور ربڑ کی گولیوں کا استعمال کیا لیکن وہ ہم پر حملے کرتے رہے اس لیے ہم نے مظاہرین پر فائر کھول دیا لیکن ہمیں یقین نہیں کہ وہ ہماری گولیوں سے ہلاک ہوئے‘۔

"ہم نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پہلے آنسو گیس اور ربڑ کی گولیوں کا استعمال کیا۔ لیکن وہ ہم پر حملے کرتے رہے۔اس لیے ہم نے مظاہرین پر فائر کھول دی لیکن ہمیں یقین نہیں کہ وہ ہمارے گولیوں سے ہلاک ہوئے"

سینئیر پولیس اہلکار محمد آذاد میاں

دوسری طرف جماعتِ اسلامی کے ایک مقامی رہنما نے اس بات کی تردید کی کہ ان کے کارکنوں نے پولیس کے خلاف آتشی اسلحے کا استعمال کیا۔

جماعتِ اسلامی نے ان ہلاکتوں کے خلاف پیر کو ملک بھر میں ہڑتال کرنے کا اعلان کیا ہے۔

واضح رہے کہ جنگی جرائم کی یہ ٹریبونل سنہ انیس سو اکہتر میں بنگلہ دیش کی جنگی آزادی کے دوران ہونے والے جرائم کی تحقیقات کر رہی ہے۔

اس سے پہلے ہزاروں افراد ملک کے دارالحکومت میں جنگی جرائم میں ملوث مجرمان کے لیے سزائے موت کا مطالبہ کرنے کے لیے جمع ہوئے تھے۔

ڈھاکہ میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق جنگی جرائم میں ملوث مجرمان کے لیے سزائے موت کے مطالبے کے لیے یہ مظاہرے گذشتہ گیارہ دنوں سے جاری ہیں اور جمعہ کو زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد نے ان مظاہروں میں شرکت کی۔

یہ مظاہرے اس وقت شروع ہوئے جب جماعتِ اسلامی کے رہنما مولا عبدالقادر کو قتل اور تشدد جیسے جنگی جرائم میں ملوث ہونے کی پاداش میں عمر قید کی سزا سنائی گئی۔

جنگی جرائم کی ٹریبونل میں دس اور ملزمان پر مقدمات چلائے جا رہے ہیں جن میں آٹھ ملزمان کا تعلق جماعتِ اسلامی اور دو کا تعلق حزبِ اختلاف کی جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی سے ہے۔

جاعتِ اسلامی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی اتحادی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔