عراقی خفیہ ایجنسی کے اعلیٰ اہلکار خودکش حملے میں ہلاک

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 16 فروری 2013 ,‭ 12:04 GMT 17:04 PST

اس حملے کی زمہ داری ابھی تک کسی گروہ نے بھی قبول نہیں کی ہے

شمالی عراق کے قصبے تل افار میں واقع عراقی خفیہ ایجنسی کے تربیتی مرکز کے سربراہ اپنے دو محافظوں سمیت خودکش حملے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔

حملہ آور کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے تل افار کے علاقے میں واقع عراقی خفیہ ایجنسی کے تربیتی مرکز کے سربراہ علی عونی کے گھر کے قریب آکر اڑا لیا۔

دو ہزار پانچ میں اس قصبے میں امریکی اور عراقی باغیوں کے درمیان شدید لڑائی ہوئی تھی اور اس کے بعد سے اس علاقے میں شدت پسندوں کے کافی حملے ہوتے رہے ہیں۔

اس حملے کی زمہ داری ابھی تک کسی گروہ نے بھی قبول نہیں کی ہے۔

یہ عراق میں حالیہ دنوں میں ہونے والے حملوں میں سے ایک اور حملہ ہے جس کے نتیجے میں اس سال کے آغاز سے اب تک کئی افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اب تک ہونے والے حملوں کے سلسلے میں انگلی القاعدہ سے منسلک سنی شدت پسند گروہوں پر اٹھائی جاتی رہی ہے۔

تل افار کا قصبہ شام اور عراق کے سرحد سے ایک سو پچاس کلومیٹر اور بغداد سے چار سو بیس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

اگرچہ فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات عراق میں جاری ہونے والی دو ہزار چھ اور سات بغاوت کے بعد سے کافی کم ہوئے ہیں مگر اب بھی ایسے حملے ہونا عام ہیں۔

اس مہینے کی ابتداء میں شیعہ اکثریت کے علاقوں ہونے والے دھماکوں کے نتیجے میں کم از کم تینتیس افراد ہلاک اور سو کے قریب زخمی ہوگئے تھے۔

عراق میں شیعہ اور سنی مسلک سے تعلق رکپنے والے افراد شدت پسندوں کے حملوں کا نشانہ بنتے رہتے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔