بحرین میں حکومت مخالف مظاہرے جاری

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 16 فروری 2013 ,‭ 09:14 GMT 14:14 PST
بحرین

خلیجی ملک بحرین میں جمعرات کو حکومت مخالف مظاہرے میں دو افراد کی ہلاکت کے بعد تشدد کے واقعات دوسرے دن بھی جاری رہے۔

جمعرات کو ملک کے سنی شاہی خاندان کی حکومت کے خلاف ہونے والے مظاہرے میں ایک پولیس اہلکار کے علاوہ ایک سولہ سالہ لڑکے کی موت ہو گئی تھی۔

پولیس نے جمعہ کو حکومت مخالف ریلیاں نکالنے والوں کے خلاف آنسو گیس استعمال کی۔

مظاہرین نے دارالحکومت مناما کی ایک اہم شاہراہ کو بلاک کر دیا تھا۔

اس ریلی کا اعلان حزب اختلاف نے کیا تھا جو ملک میں آئینی شاہی نظام چاہتے ہیں۔

ریلی میں شریک مظاہرین ملک سے بادشاہت کے خاتمے اور شاہی خاندان کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔

ایک عینی شاہد نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس نے بظاہر کسی اشتعال کے ریلی پر فائر کیا اور لوگوں کو اپنی جان بچانے کے لیے تجارتی مراکز میں پناہ لینی پڑی۔

ادھر بحرین میں امریکی سیفر نے جمعہ کو مظاہرین سے امن کی اپیل کی ہے۔

امریکی سفیر تھامس کرجیوسکی نے بحرین میں جاری تشدد میں اضافے پر ’گہری تشویش‘ کا اظہار کیا ہے۔

ایک بیان میں امریکی سفیر کا کہنا تھا کہ ہم ہر طرح کے تشدد اور تخریبی کارروائیوں کی مذمت کرتے ہیں۔

بحرین میں تشدد کے یہ واقعات ایسے وقت ہوئے ہیں جب حکومت اور حزب اختلاف ملک کے بحران کو ختم کرنے کے لیے مذاکرات کرنے والے ہیں۔

چودہ فروری سنہ دو ہزار گیارہ کو پر امن مظاہرین نے ملک کی علامتی عمارت پرل راؤنڈ اباؤٹ پر قبضہ کر لیا تھا جسے تین کے بعد سیکوریٹی فورسز نے آنسو گیس اور لاٹھی چارج کر کے اس جگہ کو مظاہرین سے خالی کروایاتھا۔

پولیس اور مظاہرین میں ہونے والی ان جھڑپوں میں کم سے کم دو افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے تھے۔

ان جھڑپوں کے بعد تشدد کے واقعات میں اضافہ ہو گیا تھا اور فروری اور مارچ کے دوران پینتیس افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔