سری لنکا: صحافی شوکت علی پر قاتلانہ حملہ

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 16 فروری 2013 ,‭ 07:16 GMT 12:16 PST
فرازشوکت علی

شری لنکا کے صحافی فراز شوکت علی پر قاتلانہ حملہ ہوا ہے

سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو کے نواحی علاقے سے شائع ہونے والے ایک اخبار کے نامہ نگار کو چند نامعلوم افراد نے ان کے گھر پر گولی مار دی۔

’دی سنڈے لیڈر‘ نامی اخبار سے تعلق رکھنے والے صحافی فراز شوکت علی کے گلے میں گولی لگنے کے بعد انہیں فورا ہسپتال لے جایا گيا۔

فراز کا علاج کرنے والے ایک ڈاکٹر نے بی بی سی کے نامہ نگار اعظم امین کو بتایا کہ ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

دوسری جانب سری لنکا کی پولیس کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے تفتیش جاری ہے۔

شوکت علی کا گھرماؤنٹ لیوینیا میں ہے جسے وہ گیسٹ ہاؤس کے طور پر بھی استعمال کرتے ہیں۔ اس میں رہنے والے ایک شخص نے جمعہ کو رات گئے گولی کی آواز کے بعد چیخ سنی اور وہی انہیں ہسپتال لے کر گئے۔

انھیں بعد میں ایک پرائیوٹ ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ایک ڈاکٹر نے بتایا کہ ان کے جسم سے گولی نکال لی گئي ہے۔

گیسٹ ہاؤس کے دوسرے مکین نے بی بی سی کو بتایا ’فراز نے صبح ان سے کہا تھا کہ ان کی جان کو خطرہ ہے۔ ہم لوگوں نے حملہ آوروں کو نہیں دیکھا۔ عین ممکن ہے کہ انھیں ان کی کھڑکی سے نشانہ بنایا گیا ہو‘۔

واضح رہے کہ حکومت مخالف اخبار ’دی سنڈے لیڈر‘ کے مدیر لسنتھا وکریماتنگے کو چار سال قبل موٹر سائیکل پر سوار نقاب پوش افراد نے گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

سری لنکا میڈیا ورکرز

سری لنکا میں میڈیا پر حملے خلاف مظاہرے بھی ہوئے ہیں

ناقدین کا کہنا ہے کہ لسنتھا وکریماتنگے کی موت کے بعد اخبار ’دی سنڈے لیڈر‘ کا رنگ پھیکا پڑگیا ہے اور اب اس میں وہ کاٹ نہیں ہے۔

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ لسنتھا وکریماتنگے کی موت کا معاملہ ابھی تک حل نہیں ہو سکا اور اب یہ واقعہ ملک میں پریس کی آزادی کی کہانی بیان کرتا ہے۔

لسنتھا وکریماتنگے کی موت کے بعد بھی اس نظام مخالف اخبار کی تفتیشی صحافت جاری رہی اور حکام کو پریشان کرتی رہی لیکن گزشتہ جولائی میں یہ دیوالیہ ہونے کے قریب تھا کہ اسے ایک بااثر تاجر نے خرید لیا۔

ستمبر میں اخبار کی اس وقت کی مدیر فریڈرک جانز نے کہا کہ انہیں اس تاجر کی سیاسی نظریات کی پابندی نہ کرنے کی وجہ سے نکال دیا گیا اور اس کے بعد انہوں نے اپنی جان کو لاحق خطرات کے باعث ملک چھوڑ دیا تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔