’جج برطانیہ کو غیر محفوظ بنا رہے ہیں‘

آخری وقت اشاعت:  اتوار 17 فروری 2013 ,‭ 10:07 GMT 15:07 PST
تھریسا مے

تھریسا مے نے تنقید کے باوجود کئی برطانوی ججوں کی صلاحیتوں کا اعتراف کیا ہے

برطانیہ کی سیکرٹری داخلہ تھریسا مے نے ملک کے ججوں پر الزام لگایا ہے کہ وہ غیر ملکی مجرموں کو ملک بدر کرنے کے قوانین کو نظر انداز کر کے برطانیہ کو غیر محفوظ بنا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بعض جج پارلیمان کی خواہشات کو ’نظر انداز‘ کرتے ہیں۔

گزشتہ سال برطانیہ کے پارلیمان نے ججوں کے لیے نئےاصول وضع کیے تھے جس میں’فیملی لائف کے حق‘ کے تحت ایک مجرم کے حق کی حد بیان کی گئی ہے۔

لیکن میل آن سنڈے اخبار میں ایک مضمون میں تھریسا مے نے لکھا کہ وہ اب ایک ایسا قانون متعارف کرانا چاہتی ہیں جس کے تحت برطانیہ میں مقیم سنجیدہ جرائم میں ملوث غیر ملکیوں کو ملک بدر کیا جائے گا۔

گزشتہ سال جاری کیے گئے رہنما اصولوں کو یوروپین کنونشن برائے انسانی حقوق (ای سی ایچ آر) کے دفعہ آٹھ کے حوالوں کو خاتم کرنے کے لیے وضع کیے گئے تھے۔

توازن

"یہاں بات حقوق میں توازن برقرار رکھانا ہے۔ بطور خاص انفرادی حقوق، ایک شخص کا فیملی لائف کا حق، ایک فرد کا پرتشدد جرم سے آزادی کا حق اور سماج کا اپنے آپ کو غیر ملکی مجرموں سے محفوظ رکھنے کا حق"

تھریسا مے

واضح رہے کہ اکثر معاملوں میں دفعہ آٹھ کے فیملی لائف کے حق کو جواز بنا کر غیر ملکی مجرموں کو ملک بدر کرنے کے بجائے برطانیہ میں ٹہرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔

گزشتہ دو برسوں یعنی دوہزار گیارہ اور بارہ کے دوران ایک سو ستتر غیر ملکی مجرمان فیملی لائف کے حق کے قانون کا سہارا لیتے ہوئے ملک بدر ہونے یا ڈیپورٹیشن سے بچ گئے۔

سیکرٹری داخلہ تھریسا مے نے ججوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے لکھا کہ چند ججز پارلیمان کی خواہشات کو نظر انداز کر رہے ہیں۔ انھوں نے سخت الفاظ میں کہا کہ ’ایک جمہوریت کے لیے یہ ضروری ہے کہ عوام کے منتخب نمائندے قوانین بنائیں اور وہ ملک کو چلائیں نہ کہ ججز۔‘

سیکرٹری داخلہ نے اخبار میں شائع اپنے مضمون میں لکھا کہ چند ججوں کے دماغ میں یہ بات سما گئی ہے کہ ای سی ایچ آر کی دفہ آٹھ کو دبایا نہیں جاسکتا ہے۔

انھوں نے لکھا کہ ’بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ بعض ججز پارلیمان میں امیگریشن کے متعلق بحث کا احترام نہیں کر رہے ہیں جس میں اتفاق رائے سے نئے قانون کو منظوری دی گئی تھی۔ ایسا اس لیے ہوا تھا کہ پارلیمان اس کا نفاذ چاہتی ہے۔‘

تھریسا مے نے واضح کیا کہ وہ ایسے قوانین لانے جا رہی جس میں ملک بدر یا ڈیپورٹیشن ایک عام بات ہو سوائے ’غیر معمولی حالات‘ کے۔

بہرحال انھوں نے کہا کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا کیونکہ ان کے مطابق ’یہ کسی بھی اچھے عدالتی نظام کا بے حد ضروری حصہ ہے۔‘

انھوں نے لکھا کہ ’یہاں بات حقوق میں توازن برقرار رکھانا ہے۔ بطور خاص انفرادی حقوق، ایک شخص کا فیملی لائف کا حق، ایک فرد کا پرتشدد جرم سے آزادی کا حق اور سماج کا اپنے آپ کو غیر ملکی مجرموں سے محفوظ رکھنے کا حق۔‘

ججوں پر تنقید کے باوجود انھوں نے کہا کہ وہ برطانیہ کے بہت سے ججوں کو سراہاتی ہیں اور کہا کہ وہ حکومتی وزرا کے اختیارات پر عدلیہ کی طرف سے ’جائزہ لینے اور قابو رکھنے‘ کو تسلیم کرتی ہیں۔

اس کے ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ ’برطانیہ کے قوانین منتخب پارلیمان کے ذریعے بنائے جاتے ہیں اور یہ کہ جب جج وہ کردار خود ادا کرنے لگتے ہیں تو جمہوریت مجروح ہوتی ہے۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔