انڈونیشیا میں سیلاب سے پندرہ افراد ہلاک

آخری وقت اشاعت:  پير 18 فروری 2013 ,‭ 10:27 GMT 15:27 PST
انڈونیشیا

انڈونیشیا کے شمالی صوبے میں مٹی کے تودے گرنے اور سیلاب سے ہزاروں لوگ بے گھر ہو گئے ہیں

انڈونیشیا کے شمالی صوبے کے حکام کا کہنا ہے کہ سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے سے کم از کم پندرہ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

اتوار کو صوبائی دارالحکومت مناڈو اور آس پاس کے علاقوں کے ہزاروں افراد سیلاب سے بچنے کے لیے اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو گئے تھے۔

حکام نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ صوبہ سولاویسی کے بعض علاقوں میں چھ فٹ سے زیادہ پانی جمع ہے۔

انھوں نے یہ بھی بتایا کے امدادی ٹیمیں اور مقامی افراد ملبے میں پھنسے لوگوں کو نکالنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔

متاثرہ علاقوں میں بلڈوزر اور دیگر مشینیں بھیجی جا رہی ہیں تاکہ امدادی کاموں میں تیزی لائی جا سکے۔

شمالی سولاویسی کے پولیس چیف بریگیڈیئر جنرل دکی اتوتائی نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ چند نعشیں مٹی کے تودوں میں سے نکالی گئی ہیں جن میں تین بچے بھی شامل ہیں۔

ایک مقامی اہلکار لکی سوماکد نے اے پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ ایک خوفناک واقعہ تھا۔ ہم لوگ افراتفری کے عالم میں بھاگ رہے تھے۔ ‏کچھ لوگ بھاگنے میں ناکام رہے اور وہ تودوں میں دب کر رہ گئے۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔