غزہ کے سکولوں میں عبرانی پڑھانے کا رجحان

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 22 فروری 2013 ,‭ 01:33 GMT 06:33 PST
غزہ سکول

غزہ کی لڑکیوں میں عبرانی زبان سیکھنے کا شوق زیادہ نظر آتا ہے

کئی دہائیوں میں پہلی بار غزہ کی پٹی میں حماس کے زیرِ انتظام سکولوں میں عبرانی زبان کی تعلیم دی جا رہی ہے۔ لیکن بی بی سی کے جان ڈونیسن کے مطابق ایسا کرنے کا مقصد اسرائیلیوں کے ساتھ تعلقات بہتر بنانا ہرگز نہیں ہے۔

غزہ سٹی میں حسن سلامہ گرلز سکول میں آپ کو ایک غیر معمولی غیر ملکی زبان سننے کو ملے گی۔

سکول کی استاد کہیں گی، ’اریو تو‘۔ جس کا مطلب ہے شام کا سلام۔

پھر صاف سیاہ اور سرمئی سکول کے یونیفارم اور سر پر سفید سکارف پہنے ہوئے لڑکیوں کی آواز آئے گی ’اریو تو‘۔

وہ سب عبرانی زبان میں بات کر رہی ہیں۔

دبی دبی حلق سے نکالی جانے والی مخصوص اسرائیلی زبان اب حماس کی حکومت کے سکولوں میں فلسطینی بچوں کو سکھائی جا رہی ہے۔

اسلامی تحریک نے اس سال کے اوائل میں یہ پروگرام متعارف کرایا ہے۔ دو دہائیوں میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ اس طرح کی کلاسیں غزہ میں شروع کی گئی ہوں۔

"اگر ہم کسی اسرائیلی کو ملیں اور وہ آپس میں عبرانی بولنا شروع کر دیں تو اس کا مطلب ہے کہ وہ ہمارے ساتھ کچھ برا کرنے والے ہیں، ہمیں پتہ چل جائے گا کہ ان کا ارادہ کیا ہے"

نور عضوان

ان کلاسز کی مانگ اتنی بڑھ گئی ہے کہ حکومت کو عبرانی زبان کے زیادہ اساتذہ کو تربیت دینی پڑھ رہی ہے۔ یہ اس لیے ہے کہ پروگرام کو غزہ کے دوسرے علاقوں میں بھی شروع کیا جا سکے۔

لڑکیوں میں اس زبان کو سیکھنے کا بہت شوق ہے۔ استاد کے ہر سوال پر وہ اپنا ہاتھ ہوا میں بلند کرتی ہیں تاکہ جواب دے سکیں۔

عربی اور عبرانی میں کچھ مماثلت ہے اور ایسا لگتا ہے کہ لڑکیاں یہ آسانی سے سیکھ رہی ہیں۔

چودہ سالہ نادین العاشی کہتی ہیں کہ ’یہ بہت آسان ہے۔‘

’یہ انگریزی سے زیادہ آسان ہے، مشکل بالکل بھی نہیں ہے۔‘

نادین اچھی انگریزی بولتی ہیں لیکن اب وہ تین زبانیں سیکھنے جا رہی ہیں۔ وہ بہت پر اعتماد ہیں۔ لیکن وہ اس بات کو رد کرتی ہیں کہ عبرانی سیکھنے سے امن یا ایک دوسرے کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔

وہ نہایت سنجیدگی سے کہتی ہیں کہ ’عبرانی ہمارے دشمن کی زبان ہے۔‘

سنیان فلفل

سنیان فلفل سمجھتے ہیں کہ ’دشمنوں کی زبان‘ کو جاننا ضروری ہے۔

’اسرائیلی سمجھتے ہیں کہ ہم ان سے ڈرتے ہیں اور ہم انہیں بتانا چاہتے ہیں کہ ہم ان سے نہیں ڈرتے۔ ہم اس زبان کے ساتھ ان سے لڑیں گے۔‘

نادین کی پندرہ سالہ دوست نور عضوان ان کی اس بات سے متفق ہیں۔

’اگر ہم کسی اسرائیلی کو ملیں اور وہ آپس میں عبرانی بولنا شروع کر دیں تو اس کا مطلب ہے کہ وہ ہمارے ساتھ کچھ برا کرنے والے ہیں، ہمیں پتہ چل جائے گا کہ ان کا ارادہ کیا ہے۔‘

لیکن حقیقت میں اس زبان کا کوئی خاص مصرف نہیں ہے۔

کلاس میں موجود تیس میں سے صرف ایک لڑکی ہی کبھی کسی اسرائیلی سے ملی ہے یا کبھی اسرائیل گئی ہے، اور وہ بھی اس وقت جب وہ وہاں علاج کروا رہی تھی۔

حماس کی وزارت تعلیم کے سنیان فلفل نے مجھے ایک اسرائیلی اخبار میں عبرانی شہ سرخیاں پڑھ کر سنائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 1970 کی دہائی میں وہ اسرائیل میں ایک مزدور کے طور پر کام کرتے تھے۔

انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ’میرے وہاں بہت دوست تھے۔‘

’کبھی میں ان کے گھر رہتا تو کبھی وہ میرے گھر رہتے۔‘

لیکن ان کا کہنا ہے کہ ’اب وہ دن نہیں رہے۔‘

انہوں نے کہا کہ پیغمبرِ اسلام نے کہا ہے کہ ’اپنے دشمنوں کی زبان کو جاننا ضروری ہے۔‘

’ہم ان کو سمجھنا چاہتے ہیں، تاکہ وہ ہمیں دھوکہ نہ دے سکیں اور ہمیں یہ پتہ چلے کہ وہ کس طرح سوچتے ہیں۔‘

دوسرے الفاظ میں، فلسطینی اور اسرائیلی بچے ایک ہی زبان تو سیکھ رہے ہیں، لیکن ان کے درمیان بد اعتمادی ہمیشہ کی طرح موجود ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔