صحافتی دنیا کا تاریک ترین دن

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 21 فروری 2013 ,‭ 04:31 GMT 09:31 PST

یہ ان چند دنوں میں سے ایک ہے جب ہماری عالمی صحافی برادری کچھ دیر کے لیے رک کر ہمارے کام کے بارے میں غور کرے گی۔

یہ بات اہم ہے کہ صحافت صحافیوں کی کہانیوں کے بارے میں نہیں ہونی چاہیے مگر بعض ایسے لمحات آتے ہیں جب صحافی خود ہی کہانی کا مرکزی کردار بن جاتے ہیں۔

آج سے ایک سال قبل ہمارے بعض بہترین ساتھیوں میں سے چند جن سے ہمیں ایک الفت کا رشتہ تھا، شام میں اپنے فرائض سرانجام دیتے ہوئے اپنی زندگی گنوا بیٹھے۔

سولہ فروری دو ہزار بارہ کو نیویارک ٹائمز کے انتھونی شدید شام سے نکلتے ہوئے اچانک دمے کے حملے کے نتیجے میں ہلاک ہو گئے تھے۔

ان کی ہلاکت کی صورت میں دنیا ایک بہت ماہر وقائع نگار سے محروم ہو گئی جو مشرقِ وسطی اور اس سے آگے کی دنیا کے حالات و واقعات پر لکھا کرتے تھے۔

اس کے پانچ دن کے بعد ہی حمص شہر میں شام کے اوقات میں رامی السید جو شام سے تعلق رکھنے والے ایک مشہور شہری صحافی تھے گولہ باری کے نتیجے میں ہلاک ہو گئے۔

سولہ فروری دو ہزار بارہ کو نیویارک ٹائمز کے انتھونی شدید شام سے نکلتے ہوئے اچانک دمے کے حملے کے نتیجے میں ہلاک ہو گئے تھے

اگلی صبح مزید بری خبریں لے کر آئی جب ایک پرانی دوست، سیاح، تجربہ کار نامہ نگار میری کولوِن اور نوجوان فرانسیسی فوٹوگرافر ریمی اوشلک کے ہلاکت کی اطلاع آئی۔

اس کے علاوہ میری کولوِن کے ساتھی پال کونری اور فرانسیسی صحافی ایڈتھ بووئیے بھی اس وقت شدید زخمی ہو گئے جب ایک گھر جس میں وہ قیام پذیر تھے پر راکٹوں سے حملہ کیا گیا۔ ان کے ساتھ بہت سارے شامی شہری بھی ہلاک ہوئے جب باب امر شہر پر حکومتی افواج نے حملہ کیا جو شامی حزب اختلاف کے قبضے میں تھا۔

گزشتہ سال میڈیا کے لیے ایک بدترین سال تھا، صحافیوں کے تحفظ کی تنظیم سی پی جے نے اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ اٹھائیس صحافی صرف شام میں ہلاک ہوئے جس کے نتیجے میں شام پوری دنیا میں صحافتی فرائض کی انجام دہی کے لیے ایک خطرناک ترین جگہ بن گیا ہے۔

ستر کے قریب صحافی اس کے علاوہ دنیا کے دوسری علاقوں میں ہلاک ہوئے جو کہ دو ہزار گیارہ سے تعداد میں کافی زیادہ ہے۔

شام میں ہی بہت سے صحافیوں کو لاپتہ کہا جا رہا ہے جن میں امریکی صحافی آسٹن ٹائس جنہیں آخری بار اگست میں دیکھا گیا تھا اور جیمز فولی جو نومبر میں لاپتہ ہو گئے تھے شامل ہیں۔

رامی السید جن کا تعلق حمص شہر سے تھا ایک مشہور شہری صحافی تھے جو گولہ باری کے نتیجے میں ہلاک ہو گئے

گزشتہ سال فروری میں میری کولوِن جنہوں نے کئی جنگوں کی تباہی دیکھی ہوئی تھی کو بہت سے دوست احباب نے خطرات کا احساس دلایا جب انہوں نے شام کے پر خطر سفر کا فیصلہ کیا۔ میری نے خطرات سے انکار نہیں کیا مگر شام جا کر رپورٹنگ کرنے پر مصر رہیں یہ کہتے ہوئے کہ ’یہی تو ہم کرتے ہیں‘۔

بی بی سی کے مشرقِ وسطی کے مدیر جیریمی بوِن کو اپنی ہلاکت سے چوبیس گھنٹے قبل کی گئی ایک ای میل میں میری نے لکھا ’میں شام کے شدید سرد شہر باب امر میں ہوں۔ میں سمجھتی ہوں کہ گزشتہ روز کی میری تحریر وہی کچھ ہے جس کے لیے ہم صحافت کی دنیا میں قدم رکھتے ہیں۔ یہ لوگ یہاں بے خوف و خطر لوگوں کو ہلاک کر رہے ہیں جسے دیکھ کر دل خراب ہوتا ہے اور غصہ آتا ہے۔‘

شام میں بغاوت کے دو سال کے بعد اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اب تک ستر ہزار شامی ہلاک ہو چکے ہیں۔ ایسے افراد کی تعداد جنہیں اپنا ملک اس لڑائی اور بغاوت کے نتیجے میں ترک کرنا پڑا اور جو کسمپرسی کی حالت میں ہمسایہ ممالک میں زندگی مہاجر کیمپوں میں گزارنے پر مجبور ہیں جلد ہی دس لاکھ تک پہنچ جائے گی۔ لاکھوں اس کے علاوہ ہیں جو شام کے اندر ہی امداد کے منتظر در بدر پھرتے ہیں۔

ہلال احمر کے ڈائریکٹر آپریشنز پئیری کرین بول نے شام کے ایک حالیہ دورے کے بعد خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ’شام میں اس وقت صورتِ حال قیامت خیز نہیں تو اس کم بھی نہیں ہے۔‘

اسی ہفتے اقوامِ متحدہ کی سابق پراسیکیوٹر کارلہ ڈیل پونٹے نے عالمی جرائم کی عدالت سے کہا کہ وہ شام میں تمام گروہوں کی جانب سے کیے جانے والے جنگی جرائم کی تحقیقات کا آغاز کرے۔

اینتھونی شدید نے ایک دفعہ نیشنل پبلک ریڈیو سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’میں یہ ضرور سمجھتا تھا کہ شام بہت اہم ہے، اور اس کی خبر یا وہاں موجود کہانیاں وہاں جائے بغیر نہیں بتائی جا سکتیں تھیں جس کے لیے شام میں جانے کا خطرہ مول لیا جا سکتا ہے۔‘

جو ذہنی کوفت کا موجب سوال انتھونی کو درپیش تھا یا شاید بہت سارے دوسروں کو کہ وہ کب یہ فیصلہ کریں کہ ایک کہانی کی تلاش میں جس کا بتایا جانا ضروری ہے، خطرات کہاں اور کس وقت بہت زیادہ ہو جاتے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔