ایران:’جوہری پروگرام میں توسیع کا منصوبہ‘

آخری وقت اشاعت:  اتوار 24 فروری 2013 ,‭ 22:24 GMT 03:24 PST

نئے بجلی گھروں کے لیے مقامات کے چناؤ میں زلزلوں اور فضائی حملوں کے امکانات کو بھی مدِنظر رکھا گیا ہے:ایرانی حکام

ایران کا کہنا ہے کہ ملک میں یورینیم کے نئے دخائر کی دریافت کے بعد وہ اپنے جوہری پروگرام میں توسیع کا ارادہ رکھتا ہے۔

اس کا کہنا ہے کہ اس نے آئندہ پندرہ برس میں سولہ نئے جوہری بجلی گھروں کی تعمیر کے لیے مقامات کی نشاندہی کر لی ہے۔

ایران میں یورینیم کے ذخائر کی دریافت کی اطلاعات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی تاہم ایران کے مطابق یہ ملک کے موجودہ ذخائر سے تین گنا بڑے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کی پابندیوں کے تحت ایران پر جوہری مواد کی درآمد پر پابندی عائد ہے اور وہ منگل کو مغربی طاقتوں کے ساتھ اپنے جوہری پروگرام پر بات چیت شروع کرنے والا ہے۔

عام خیال ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی قزاقستان کے شہر الماتے میں ہونے والے مذاکرات میں ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی کی پیشکش کر سکتے ہیں۔جوہری پروگرام کے نتیجے میں عائد عالمی پابندیوں کی وجہ سے ایرانی معیشت سکڑ رہی ہے اور ملک میں بیروزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق فرانس کی وزارتِ خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ اس بات چیت میں ایران کو ایک نئی پیشکش کی جائے گی۔

ایران کے جوہری پروگرام پر بات چیت کا گذشتہ دور جون 2012 میں ماسکو میں ہوا تھا جو بےنتیجہ رہا تھا۔

امریکہ اور مغربی ممالک کا کہنا ہے کہ ایران جوہری پروگرام کی آڑ میں جوہری ہتھیاروں کے حصول کے لیے کوشاں ہے جبکہ ایران اس الزام سے انکار کرتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔

ایران کی جوہری توانائی کی تنظیم اے ای او آئی نے کہا ہے کہ ایک تحقیق کے نتیجے میں سولہ مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے جو جوہری بجلی گھروں کی تعمیر کے لیے مناسب ہیں۔

ادارے کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ مقامات ایران کے شمالی اور جنوبی ساحلی علاقوں، صوبہ خوزستان اور شمالی مغربی ایران میں ہیں اور ان کے چناؤ میں زلزلوں اور فضائی حملوں کے امکانات کو بھی مدِنظر رکھا گیا ہے۔

ایک اور رپورٹ میں ادارے نے اپنے ماہرین کی کوششوں کی تعریف کی ہے جن کی بقول ادارہ شب و روز کی کوششوں سے یورینیم کے ذخائر دریافت ہوئے۔

ذرائع ابلاغ کی اطلاعات کے مطابق گذشتہ اٹھارہ ماہ میں ہونے والی دریافتوں کے نتیجے میں ایران کے یورینیم کے ذخائر تین گنا بڑھ گئے ہیں۔ ان دریافتوں سے قبل ایران کے پاس 4400 ٹن یورینیم کے ذخائر موجود تھے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔