’امریکی فوج کو وردک سے نکل جانے کا حکم‘

آخری وقت اشاعت:  اتوار 24 فروری 2013 ,‭ 16:14 GMT 21:14 PST

افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے صوبے وردک میں تعینات امریکی سپیشل فورسز کو گمشدگیوں اور تشدد کے الزامات کے بعد دو ہفتوں کے اندر اندر وہاں سے نکل جانے کا حکم دیا ہے۔

صدر کرزئی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ امریکی فورسز کا حصہ سمجھے جانے والے چند افغانیوں کی کارروائیوں کی وجہ سے یہ قدم اٹھایا گیا۔

امریکی ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ خلاف ورزیوں کے الزامات کا سنجیدگی سے جائزہ لے رہے ہیں تاہم ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ تازہ پیش رفت پر کوئی بات نہیں کر سکتے ہیں۔

صدر کرزئی کے ترجمان نے ایک نیوز کانفرس میں بتایا کہ امریکی فورسز کو آئندہ دو ہفتوں کے اندر اندر صوبہ وردک سے نکلنا ہو گا۔

’وہاں کچھ افراد ہیں، کچھ افغان ہیں جو ان سیلز میں امریکی فورسز کے ساتھ ہیں کام کرتے ہیں، لیکن ہمارے ذرائع اور صوبے میں کام کرنے والے حکام کے مطابق یہ امریکی فورسز کا حصہ ہیں۔‘

کابل میں بی بی سی کی نامہ نگار کیرن ایلن کا کہنا ہے کہ ان افغان یونٹس کو تشدد اور گمشدگیوں کے الزامات کا سامنا ہے اور پارلیمان کی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں بھی ان پر یونیورسٹی کے ایک طالب علم کا سر قلم کرنے کا الزام ہے۔

دفاعی نقطۂ نظر سے صوبہ وردک خاصی اہمیت کا حامل ہے اور حالیہ دنوں یہاں شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں پر توجہ مرکوز ہے۔

امریکی فورسز اور ان کے ساتھ کام کرنے والی مقامی ملیشیاء کے احتساب کا معاملہ افغانستان اور امریکہ کے تعلقات میں کشیدگی کا بڑھتا ہوا سبب ہے۔

ایک ہفتہ قبل ہی افغان صدر نے افغان سکیورٹی فورسز کا پابندی لگائی تھی کہ وہ رہائشی علاقوں میں کارروائیوں کے دوران فضائی طاقت کی مدد نہیں مانگ سکتے۔

صوبہ کنٹر میں دس شہریوں کی ہلاکت کے بعد صدر کرزئی نے یہ پابندی عائد کی تھی اور اس وقت کہا تھا ’ہماری فورسز غیر ملکیوں سے فضائی مدد مانگتی ہیں اور ان فضائی حملوں میں ہمارے بچے مارے جاتے ہیں‘۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔