اٹلی: عام انتخابات کے لیے ووٹ ڈالے جا رہے ہیں

آخری وقت اشاعت:  اتوار 24 فروری 2013 ,‭ 05:44 GMT 10:44 PST
اٹلی

اٹلی میں عام انتخابات کے لیے اتوار اور سوموار کو ووٹ ڈالے جا رہے ہیں

اٹلی میں عام انتخابات کے لیے اتوار کو ووٹ ڈالے جا رہے ہیں۔ ان انتخابات کو ملک کی اقتصادی مسائل کے حل کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ ان انتخابات کو یورو زون میں بھی کافی اہمیت کے ساتھ دیکھا جا رہا ہے۔

اتوار کو ووٹ ڈالنے کا عمل مقامی وقت کے مطابق صبح آٹھ بجے سے شروع ہو جائے گا اور رات دس بجے تک جاری رہےگا۔

اس کے بعد سوموار کو بھی ووٹ ڈالنے کا عمل جاری رہے گا جو صبح آٹھ بجے سے شروع ہوکر سہ پہر تین بجے تک جاری رہے گا۔ انتخابات کے شروعاتی نتائج شام تک آنے شروع ہو جائیں گے۔

کوئی چار کروڑ ستّر لاکھ اہل ووٹر چیمبرس آف پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں، چیمبرس آف ڈیپوٹیز اور سینیٹ کے لیے ووٹ ڈال رہے ہیں۔

اعتدال پسند اتحاد کی قیادت کرنے والے اور عبوری وزیر اعظم ماریو مونٹی بھی ان انتخابات میں امیدوار ہیں۔

انتخابی جائزوں میں پیئر لوئیجی برسانی کی قیادت والے بائیں بازو کے اتحاد کو ان انتخابات میں دوسری جماعتوں پر سبقت حاصل تھی۔

برلسکونی

برلسکونی نے سنیچر کوایک ٹی کو انٹرویو دیا جسے ضابطے کی خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے

واضح رہے کہ اٹلی میں ان انتخابی جائزوں پر اس مہینے کے شروع میں دو ہفتے قبل پابندی لگا دی گئی تھی۔

انہی جائزوں کے مطابق برسانی کے اتحاد کو اٹلی کے سابق وزیر اعظم سلویو برلسکونی کی قیادت والے دائیں بازو کے اتحاد پر چند پوائنٹس کی برتری حاصل تھی۔

سنیچر کو برلسکونی نے ایک ٹی وی کو انٹرویو دیا جس کے بارے میں ان کی حریف جماعتوں کا کہنا ہے کہ یہ انتخابی مہم کے خاتمے کی خلاف ورزی ہے۔

بہر حال برلسکونی کے دفتر نے بعد میں انٹرویو کے بارے میں وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ انٹرویو اس معاہدے کے ساتھ دیا گیا کہ اسے انتخابات کے بعد سوموار کو نشر کیا جائے گا۔

اٹلی میں انتخابات ایسے وقت پر ہو رہے ہیں جب ملک سخت مالیاتی بحران کا شکار ہے۔ ٹیکنوکریٹ وزیر اعظم ماریو مونٹی کی حکومت نے بجٹ میں خسارے کو کم کرنے کے لیے بچت کی پالیسی اپنائی تھی جس سے اٹلی کےعوام سخت نالاں ہیں۔

مبصرین کا خیال ہے کہ مشہور کمیڈین بپّوگریلو کی جماعت فائیو سٹار موومنٹ (ایم فائیو ایس) کو بھی کافی تعداد میں ووٹ مل سکتے ہیں۔ ایم فائیو ایس کی روم میں آخری ریلی میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی تھی۔

روم میں بی بی سی کے نامہ نگار ایلن جانسٹن کا کہنا ہے کا گریلو نے اپنی دھواں دھار تقریر میں روایتی سیاسی جماعتوں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔

سیاست دانوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا: ’تم لوگوں نے پورے ملک کو ہڑپ کر لیا ہے اور ہزاروں لوگوں کی زندگی کو بھی۔ اب تمہیں اپنے گھر جانا چاہیے۔‘

اس سے قبل برلسکونی نے بائیں بازو کے اپنے حریف کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور ان پر ملک کے محنت کش طبقے کے خلاف متعصب رویہ رکھنے کا الزام عائد کیا تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔