اٹلی: منقسم مینڈیٹ سے یورپی رہنما پریشان

آخری وقت اشاعت:  منگل 26 فروری 2013 ,‭ 15:51 GMT 20:51 PST
اٹلی کے انتخابات

سلویو برلسکونی اور پیئر لوئیجی بیئرسانی کی جماعتوں میں ’ایک مشکل‘ اتحاد ممکن ہے

اٹلی میں ہونے والے عام انتخابات میں کوئی بھی سیاسی جماعت واضح برتری حاصل کرنےمیں کامیاب نہیں ہوئی ہے اور ملک میں سیاسی تعطل پیدا ہونے کا خطرہ منڈلانے لگا ہے جس پر یورپی ممالک کے رہنماؤں میں تشویش پائی جاتی ہے۔

فرانس اور جرمنی نے اٹلی پر اصلاحات جاری رکھنے پر زور دیا ہے جبکہ سپین نے کہا ہے کہ یہ ایسی چھلانگ ہے ’جو کہیں لے کر نہیں جاتی۔‘

اطالوی سٹاک مارکیٹوں میں حصص میں کافی کمی رہی جبکہ یورپ اور دنیا بھر کی مارکیٹوں میں بھی شروع شروع میں کمی دیکھنے میں آئی۔

سلویو برلسکونی نے کہا ہے کہ نئے انتخابات سے بچنا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت سوچنے کا ہے۔

بی بی سی کے روم میں نامہ نگار ایلن جانسٹن کے مطابق ان کا اشارہ سینٹر لیفٹ (مرکز کے بائیں جانب جھکاؤ رکھنے) والی جماعت کے ساتھ ایک مشکل اتحاد کی طرف تھا۔

سب اندرونی ووٹ گنے جانے کے بعد پیئر لوئیجی بیئرسانی کی سینٹر لیفٹ جماعت نے ایوانِ زیریں میں کامیابی حاصل کی ہے جبکہ وہ سینیٹ میں برتری حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ حکومت کی تشکیل کے لیے دونوں ایوانوں کا کنٹرول ضروری ہے۔

کامیڈین بیپے گرلو کی جماعت نے پچیس فیصد ووٹ لیے ہیں جبکہ موجودہ وزیرِ اعظم ماریو مونٹی کی جماعت دس فیصد ووٹ حاصل کر کے چوتھے نمبر پر آئی ہے۔

ان انتخابات کا نتیجہ ایسا آیا ہے کہ دونوں ایوانوں میں پارٹیوں میں جیت کا فرق ایک فیصد سے بھی کم کا رہا ہے۔

جو بھی بلاک جیتے گا وہ ایوانِ زیریں میں اکثریت حاصل کرے گا۔ لیکن سینیٹ میں ایسا نہیں ہو گا، جہاں سیٹوں کی تقسیم کا فیصلہ علاقے کی وجہ سے ہوتا ہے اور یہ قومی ووٹ سے متصادم ہو سکتا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔