اٹلی الیکشن: نتائج سے سیاسی تعطل کا خدشہ

آخری وقت اشاعت:  منگل 26 فروری 2013 ,‭ 01:13 GMT 06:13 PST

سلویو برلسکونی کے دائیں بازو کے اتحاد کو سینیٹ میں اکثریت ملی ہے

اٹلی میں ہونے والے عام انتخابات کے سامنے آنے والے غیرحتمی نتائج سے ملک سیاسی تعطل کا شکار ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

اتوار کو ہونے والی ووٹنگ کے بعد اب تقریباً تمام ووٹوں کی گنتی مکمل ہو چکی ہے اور بظاہر جہاں پارلیمان کے ایوانِ زیریں میں بائیں بازو کے خیالات کی حامی اتحاد کو معمولی برتری حاصل ہوئی ہے وہیں ایوانِ بالا میں سابق وزیراعظم سلویو برلسکونی کی زیرِ قیادت دائیں بازو کے خیالات رکھنے والا اتحاد اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب رہا ہے۔

اس الیکشن میں مزاحیہ اداکار بیپی گریلو کی پارٹی تیسرے نمبر پر رہی ہے اور اس نے دونوں ایوانوں میں اچھی کارکردگی دکھائی ہے۔

نامہ نگاروں کے مطابق اگر حتمی نتائج تک یہی صورتحال رہی تو اٹلی ایک ایسے وقت میں سیاسی بےیقینی کے دور میں داخل ہو جائے گا جب کہ یورپی یونین اٹلی میں مضبوط حکومت چاہتی ہے جو کہ یورپ کی چوتھی بڑی معیشت ہے۔

اٹلی کے الیکشن پر نہ صرف یورپ بلکہ اس سے باہر اور بھی کئی ممالک کی نظریں لگی ہوئی ہیں۔ اٹلی اس وقت شدید کساد بازاری کے دور سے گذر رہا ہے اور وہاں بےروزگاری کی شرح ریکارڈ حد تک پہنچ گئی ہے۔

ایسے حالات میں ملک کو ایک ایسی حکومت کی ضرورت ہے جو مستحکم ہو اور ملک کو اقتصادی استحکام دے سکے اور اگر ایسا نہیں ہوا تو اس سے اٹلی کا بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے۔

اس سے یورپی یونین کے لیے بھی مشکلیں بڑھیں گی جو پہلے ہی یونان، آئرلینڈ، سپین اور پرتگال جیسے ممالک کے خستہ اقتصادی حالات کی وجہ سے پریشانیوں میں گھرا ہوا ہے۔

نومبر 2009 میں برلسكوني حکومت کو اقتصادی بحران اور وزیراعظم کے جنسی سکینڈل میں نام آنے کے بعد اقتدار چھوڑنا پڑا تھا جس کے بعد ماریو موٹي کی قیادت میں ٹیكنوكریٹس کی حکومت نے اقتدار سنبھالا تھا۔

اٹلی کی پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں کے ارکان کی تعداد 630 ہے جبکہ ایوان بالا میں 315 ممبران ہیں۔ یہ ارکانِ پارلیمان پانچ پانچ سال کی مدت کے لیے منتخب جاتے ہیں اور حکومت بنانے کے لیے دونوں ہی ایوانوں میں اکثریت درکار ہے۔

انتخابی نتائج میں کسی بھی جماعت کو واضح اکثریت نہ ملنے کے امکان کے بعد یہ خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ کہیں اٹلی میں یونان جیسے حالات نہ پیدا ہو جائیں۔ گزشتہ سال یونان میں چھ ہفتوں کے اندر اندر دو بار عام انتخابات کرانے پڑے تھے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔