مالدیپ: 15 سالہ لڑکی کو سو کوڑوں کی سزا

آخری وقت اشاعت:  بدھ 27 فروری 2013 ,‭ 21:08 GMT 02:08 PST

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس سزا کو ’ظالمانہ اور غیر انسانی‘ قرار دیا ہے

مالدیپ میں عدالت نے جنسی زیادتی کا شکار ایک پندرہ سالہ لڑکی کو شادی سے قبل جنسی تعلقات استوار کرنے پر سو کوڑوں کی سزا سنائی ہے۔

استغاثہ کا کہنا ہے کہ لڑکی کو دی جانے والی سزا کا اس سے ہونے والی جنسی زیادتی کے معاملے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

اس لڑکی پر شادی سے قبل جنسی تعلقات کا الزام اس وقت سامنے آیا تھا جب پولیس اس کے سوتیلے والد کے خلاف مذکورہ لڑکی سے جنسی زیادتی اور اس کے بچے کے قتل کے الزامات کی تحقیقات کر رہی تھی۔

حقوقِ انسانی کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس سزا کو ’ظالمانہ اور غیر انسانی‘ قرار دیا ہے۔

مالدیپ کی حکومت کا بھی کہنا ہے کہ وہ اس عدالتی فیصلے سے متفق نہیں اور وہ متعلقہ قانون کی تبدیلی پر غور کرے گی۔

بچوں کی عدالت کی ترجمان زاعما نشید کا کہنا ہے کہ عدالت نے مذکورہ لڑکی کو بچوں کی نگہداشت کے مرکز میں آٹھ ماہ تک نظربند رکھنے کا حکم بھی دیا ہے۔

ترجمان نے اس لڑکی کو دی جانے والی سزا کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ملزمہ نے جانتے بوجھتے خلافِ قانون عمل سرانجام دیا تھا۔ حکام کے مطابق اس لڑکی کے اٹھارہ سال کی عمر تک پہنچنے کے بعد ہی کوڑے مارنے کی سزا پر عملدرآمد کیا جائے گا۔

مالدیپ میں قانونی نظام اسلامی شریعہ اور انگلش کامن لاء سے اخذ شدہ ہے۔

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔