چک ہیگل: امریکہ کے نئے وزیرِ دفاع

آخری وقت اشاعت:  بدھ 27 فروری 2013 ,‭ 14:08 GMT 19:08 PST
چک ہیگل

چک ہیگل نے عراق جنگ میں بش انتظامیہ پر شدید تنقید کی تھی

امریکہ کے نئے سیکرٹری دفاع چک ہیگل صاف بات کرنے والے آزاد منش انسان ہیں جن کا تعلق نبراسکا سے ہے۔ وہ وہاں سے منتخب ہونے والے سابق ریپبلکن سینیٹر اور سابق فوجی ہیں جن کو متعدد فوجی اعزازات سے نوازا گیا تھا۔

چھیاسٹھ سالہ ہیگل کو کانگریس میں تلخ بحث کے بعد لیون پینٹا کی جگہ تعینات کیا گیا ہے۔

چک ہیگل کا فوجی تجربہ ان کے نئے عہدے میں ان کی مدد کرے گا۔ انہوں نے ویت نام کی جنگ میں بطور سکوارڈن لیڈر خدمات انجام دی تھیں، جہاں انہیں دو ’پرپل ہرٹس‘ نامی اعزازات سے نوازا گیا تھا۔ ان میں سے ایک انہوں نے اپنے بھائی کی زندگی بچانے کے لیے حاصل کیا تھا۔

ان کے سینے میں اب بھی کچھ گولوں کے ٹکڑے موجود ہیں۔


جنگ کی ہولناکیوں نے ان کے اس خیال کو تقویت دی ہے کہ فوجی کارروائی آخری حربے کے طور پر استعمال کی جانی چاہیئے جب سفارتی راستے ختم ہو جائیں۔

نیبراسکا کے شمالی پلیٹ کے علاقے میں پیدا ہونے والے چک ہیگل نے ایک غریب خاندان میں پرورش پائی اور نو سال کی عمر سے ہی گذر اوقات کے لیے چھوٹے موٹے کام کام کرنا شروع کر دیے۔

ویت نام سے واپسی کے بعد انہوں نے مختلف ملازمتیں اختیار کیں، جن میں بطور ریڈیو کے رپورٹر کام بھی شامل ہے۔ اس کے بعد ان کو کانگریس میں بطور نبراسکا کے قانون ساز کے عملے کے ایک نوکری مل گئی۔

’ویٹرنز ایڈمنسٹریشن‘ کے ساتھ ایک مدت گزارنے کے بعد انہوں نے نوخیز موبائل فون کی صنعت میں اپنی قسمت آزمائی۔

نیبراسکا واپس منتقل ہونے کے بعد وہ 1996 اور بعد میں 2002 میں سینیٹر منتخب ہو گئے، جہاں وہ خارجہ تعلقات کی کمیٹی کے ایک پینل کے چیئرمین مقرر ہوئے۔

پارٹی قیادت کے ساتھ ہیگل کے کشیدہ تعلقات کی وجہ سے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ انہوں نے 2008 میں وائٹ ہاؤس کی دوڑ میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا۔

کئی ریپبلکن انہیں اس بات پر کبھی معاف نہیں کریں گے کہ انہوں نے عراق جنگ کے دوران جارج بش کی انتظامیہ پر شدید تنقید کی۔

اگرچہ انہوں نے تنازعہ کے حل کے لیے لڑائی کے حق میں ووٹ دیا، لیکن ساتھ ساتھ اس پر شدید تنقید۔

انہوں نے 2006 میں فوجی دستوں میں مجوزہ اضافے کے فیصلے کو ویت نام کے بعد سے اس ملک میں سب سے زیادہ خطرناک خارجہ پالیسی کی غلطی قرار دیا۔

چک ہیگل کو فروری 2013 میں صدر براک اوباما کا وزیرِ دفاع نامزد کیا گیا۔

ان کی اٹھاون کے مقابلے میں اکتالیس ووٹوں سے نامزدگی کی توثیق پینٹاگون کے کسی بھی امیدوار کے لیے سب سے کم فرق سے جیت ہے۔

قانون سازوں کو اس بات پر تشویش ہے کہ چک ہیگل نے کھل کر ایران کے خلاف امریکہ یا اسرائیل کی قیادت میں فوجی حملے کی تجویز کو چیلنج کیا تھا۔

افغانستان کے امن مذاکرات میں ان کی ایران کو شامل کرنے کی تجویز کو بھی پسند نہیں کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔