’انڈونیشیا مذہبی عدم رواداری سے نمٹے‘

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 28 فروری 2013 ,‭ 14:15 GMT 19:15 PST
جکارتا میں ایک بدھ مت مندر

انڈونیاشیا میں بدھ مت برادری کے لوگوں سمیت اقلیتی گروپوں پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق انڈونیشیا میں مذہبی عدم رواداری میں اضافہ ہوا ہے۔

رپورٹ کے مطابق انڈونیشیا میں مذہبی اقلیتوں پر حملوں میں تیزی آئی ہے اور عیسائیوں، بدھ مت اور مسلمان اقلیتی فرقوں پر حملوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ایسے حملے زیادہ تر شدت پسند اسلامی گروپوں کی طرف سے کیے گئے ہیں۔

انڈونیشیا میں اکثریتی آبادی سنی مسلمانوں کی ہے اور حکومت کا کہنا ہے کہ ملک میں مذہبی ہم آہنگی قائم ہے۔

تاہم ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اقلیتوں پر حملے انڈونیشیا کے سرکاری اہلکاروں اور سکیورٹی افواج کے نااہلی یا تعاون سے ممکن ہوتے ہیں۔

ہیومن رائٹس واچ نے اس رپورٹ کے لیے اگست دو ہزار گیارہ اور دسمبر دو ہزار بارہ کے درمیان مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے سو سے زیادہ افراد سے بات کی۔

رپورٹ میں اقلیتی گروپوں پر حملوں کی مثالیں بتائی گئی ہیں جن میں وہ واقعہ بھی شامل ہے جس میں سنہ دو ہزار گیارہ میں اسلامی شدت پسندوں کی رہنمائی میں ایک مشتعل ہجوم نے احمدی فرقے کے لوگوں پر حملہ کیا تھا۔ اس حملے میں تین لوگ ہلاک ہوئے تھے۔

رپورٹ کے مطابق اس حملے کے ذمہ داروں کو یا تو کوئی سزا نہیں ہوئی یا بہت کم سزا ہوئی۔ رپورٹ کی سفارشات میں کہا گیا ہے کہ صدر سوسیلو بامبانگ کو اپنے اختیارات اور منصب کو مذہبی آزادی کے دفاع کرنے کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔

"کچھ خلاف ورزیا ضروری ہوئی ہیں لیکن ان چند مثالوں سے نتیجہ اخز نہیں کرنا چاہیے"

ترجمان، وزارت مذہبی امور

رپورٹ کی سفارشات میں ایک آزاد اور با اختیار قومی ٹاسک فورس کا قیام شامل ہے۔ اس ٹاسک فورس کا مینڈیٹ ملک میں مذہبی رواداری بڑھانا ہوگا۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیاہے کہ اس سلسلے میں انڈونیشیا میں توہین مذہب کا قانون بھی ختم کیا جانا چاہیے اور حکام کو مذہبی اقلیتوں ہر حملوں کے لیے ’زیرو ٹالرنس ‘ ہونی چاہیے یعنی ان کو برداشت نہیں کیا جانا چاہیے۔

ہیومن رائٹس واچ کے ایشیا کے لیے نائب ڈائریکٹر فیلم کائن نے خبر رساں ادارے اے پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مذہبی کشیدگی سے انڈونیشیا کی تیزی سے بڑھتی ہوئی معیشت بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔

تاہم انڈونیشیا کی وزارت مذہبی امور کے بحرالحیات نے خبر رساں ادارے اے پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں مذہبی رواداری قائم ہے اور مضبوط ہے اور اس کا ثبوت پچھلے سال کیے گئے سرکاری سروے کے نتائج سے ظاہر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کچھ خلاف ورزیاں ضروری ہوئی ہیں لیکن ان چند مثالوں سے نتیجہ اخذ نہیں کرنا چاہیے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کچھ فسادات میں اختلاف کسی اور چئم پر ہوتا ہے لیکن مذہب کو استعمال کیا جاتا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔