’امریکی دباؤ اور مخالفت کو پسِ پشت ڈالنا ہوگا‘

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 28 فروری 2013 ,‭ 23:15 GMT 04:15 PST

پاکستان سمیت کسی بھی ملک کے لیے توانائی کے محفوظ ذرائع تک رسائی پہلی ترجیح ہے: خامنہ ای

ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ ایران اور پاکستان کو گیس پائپ لائن کی تعمیر کے سلسلے میں امریکی مخالفت اور دباؤ کو نظرانداز کرنا ہوگا۔

انہوں نے یہ بات بدھ کو پاکستان کے صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کے دوران کہی جو اس گیس پائپ لائن منصوبے کو حتمی شکل دینے کے سلسلے میں دو روزہ دورے پر ایران پہنچے ہیں۔

دریں اثناء گیس پائپ لائن کے حوالے سے امریکی محکمۂ خارجہ کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں حصہ لینے والے ایسی سرگرمیوں سے دور رہیں جو پابندیوں کی زد میں آتی ہیں۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران پاکستان گیس پائپ لائن کا منصوبہ دونوں ممالک کے مستحکم باہمی تعاون کی اہم مثال ہے اور اس تعاون میں مزید اضافے کی مخالفت کے باوجود اس منصوبے کو مکمل کرنا دونوں ممالک کے وسیع تر مفاد میں ہے۔

آیت اللہ خامنہ ای نےصدر زرداری سے بات چیت کے دوران یہ بھی کہا کہ ’پاکستان سمیت کسی بھی ملک کے لیے توانائی کے محفوظ ذرائع تک رسائی پہلی ترجیح ہے اور اس خطے میں ایران وہ واحد ملک ہے جس کے پاس ذرائع بھی ہیں اور وہ پاکستان کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کو تیار بھی ہے۔‘

صدر زرداری نے تہران میں اپنے ایرانی ہم منصب محمود احمدی نژاد سے بھی ملاقات کی۔ پاکستان کے سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی نے صدرِ پاکستان کے ترجمان فرحت اللہ بابر کے حوالے سے کہا ہے کہ اس ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے گیس پائپ لائن منصوبے کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا۔

صدر زرداری نے تہران میں اپنے ایرانی ہم منصب محمود احمدی نژاد سے بھی ملاقات کی

پاکستان اور ایران کے درمیان گیس پائپ لائن کے لیے سات اعشاریہ چھ ارب ڈالر کا معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت ایران کے جنوب میں فارس گیس فیلڈ کو بلوچستان اور سندھ سے جوڑا جانا ہے۔

ایرانی علاقے میں پاکستانی سرحد تک گیس پائپ لائن بچھانے کا عمل اب تکمیل کے قریب ہے جبکہ اس کے برعکس پاکستان کو صوبہ بلوچستان میں جو ساڑھے چھ سو کلومیٹر لمبی پائپ لائن بچھانی ہے اس پر ابھی تک کام شروع نہیں کیا گیا۔

پاکستان اور ایران کے درمیان اس پائپ لائن معاہدے کے مطابق دسمبر سنہ دو ہزار چودہ تک جو ملک تاخیر کی وجہ بنےگا اُسے بھاری جرمانہ دینا ہوگا۔

خیال رہے کہ امریکہ ایران پر اقتصادی پابندیاں عائد کر کے اسے معاشی طور پر تنہا کرنا چاہتا ہے اور وہ پاکستان کو اس منصوبے سے دور رکھنے کے لیے نہ صرف دباؤ ڈال رہا ہے بلکہ اس نے پاکستان کو متبادل توانائی کے ذرائع میں مدد کی یقین دہانی بھی کروائی ہے۔

جمعرات کوامریکہ محکمۂ خارجہ کے قائم مقام ترجمان پیٹرل وینٹریل نے معمول کی بریفنگ کے دوران ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان کی توانائی کی ضروریات خاصی ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے دیگر طویل المدت حل موجود ہیں اور امریکی حکومت پاکستان میں توانائی کے بحران میں کمی کے لیے مدد بھی کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مذاکرات کرنے والوں کے بہترین مفاد میں ہے کہ وہ ایسی سرگرمیوں سے دور رہیں جو پابندیوں کی زد میں آتی ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ وہ اس مسئلے پر کوئی قیاس آرائی نہیں کریں گیے لیکن ’ہم پابندیوں کی زد میں آنے والی سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔