’شامی باغیوں کے لیے اضافی امداد کا اعلان‘

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 28 فروری 2013 ,‭ 14:16 GMT 19:16 PST
فائل فوٹو

اقوام متحدہ کے مطابق شام میں اب تک ستر ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں

امریکہ نے شام کی اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد شامی قومی کونسل کے لیے ساٹھ ملین ڈالر کی اضافی امداد کا اعلان کیا ہے۔

اس بات کا اعلان امریکے کے نئے وزیر خارجہ جان کیری نے جمعرات کو روم میں شامی حکومت کے حزبِ مخالف رہنماؤں سے ملاقات کے بعد کیا۔

اس موقع پر بات کرتے ہوئے امریکی وزیرِ خِارجہ کا کہنا تھا کہ شامی حکومت کے مخالفین کے لیے اضافی امداد کا فیصلہ شامی صدر بشارالاسد کی حکومت پر دباؤ بڑھانا ہے۔

انہوں نے کہا شام کے تمام شہری صدر بشارالاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد ملک کے مستقبل میں حصہ دار ہوں گے۔

یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی جب امریکہ شام کے صدر بشار الاسد کی حکومت کو ختم کرنے کے لیے باغیوں کی حمایت میں اضافہ کرنا چاہتا ہے۔

روم میں موجود بی بی سی کے نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے شامی حکومت کے مخالفین کے لیے امداد کا اعلان اس کی شام پالیسی میں تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے۔

امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے شام کے دوست ممالک کے ایک اجلاس میں شرکت کی جو شام کی حزب مخالف کی حمایت کرتی ہے۔

واضح رہے کہ اس ملاقات سے پہلے امریکی وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ امریکہ شام میں سیاسی اصلاحات میں تیزی لانا چاہتا ہے۔

خیال رہے کہ شام کی اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد شامی قومی کونسل نے روم میں ہونے والی ان مذاکرات کے بائیکاٹ کی دھمکی تھی۔

شامی حزبِ اختلاف نے سفارتی مذاکرات میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ اس بنیاد پر کیا تھا کہ بیرونی دنیا شام میں ہونے والے قتل عام کو بند کرانے میں بری طرح ناکام رہی ہے تاہم امریکی اور برطانوی وزرائے خارجہ کی جانب سے شامی عوام کی مشکلات میں کمی کے لیے مخصوص امداد کی فراہمی کی یقین دہانی کے بعد شامی قومی کونسل نے ان مذاکرات میں شرکت کرنے کا فیلصہ کیا تھا۔

اس سے قبل برطانیہ کے دورے پر آئے ہوئے امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے پیر کو شامی اپوزیشن پر زور دیا تھا کہ وہ جمعرات کو روم میں ہونے والی بات چیت میں حصہ لے۔

انہوں نے کہا تھا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ شامی نتیجہ خیز بات چیت چاہتے ہیں اور وہ وعدہ کرتے ہیں کہ یہ صرف بات چیت برائے بات چیت نہیں ہوگی۔

پیر کو برطانوی وزیرِ خارجہ ولیم ہیگ سے ملاقات کے بعد جان کیری نے شامی اپوزیشن کونسل کے صدر معاذ الخطیب سے بھی فون پر بات کی تھی۔

اسی بات چیت کے بعد شامی رہنما کی جانب سے مذاکرات میں شرکت کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔

ادھر شام کے وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ ان کی حکومت مسلح باغیوں سمیت اپنے تمام مخالفین سے بات چیت کے لیے تیار ہے۔

اقوامِ متحدہ کے اندازے کے مطابق شام کے صدر بشار الاسد کے خلاف شروع ہونے والی بغاوت میں اب تک ستر ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔