امریکہ:ایف 35 طیاروں کو پرواز کی اجازت

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 1 مارچ 2013 ,‭ 05:28 GMT 10:28 PST
ایف 35 اے

ایف 35 طیارہ امریکی وزارت دفاع کے جنگی پروگرام کا اب تک کا سب سے مہنگا منصوبہ ہے

امریکی محکمۂ دفاع کا کہنا ہے کہ وہ اپنے جنگی بیڑے میں شامل تمام ایف 35 لڑاکا طیاروں کی دوبارہ پروازیں شروع کر رہا ہے۔

ان جنگی جہازوں کو گزشتہ ہفتے انجن میں بلیڈ کی خرابی کے انکشاف کے بعد گراؤنڈ کر دیا گیا تھا۔

ایف 35 کے انجن تیار کرنے والی کمپنی پریٹ اینڈ وائٹنے کے ایک ترجمان کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ’ ٹیسٹ کرنے سے معلوم ہوا ہے کہ ٹربائن بلیڈ میں مسئلہ ڈیزائن میں خامی کے باعث نہیں بلکہ ایک’منفرد‘ مسئلہ تھا۔

کمپنی کے ترجمان میتھیو بیٹس نے برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ’ٹیم نے ایف 35 طیاروں کی باحفاظت دوبارہ پرواز کے حوالے سے مسئلے کی وجوہات کو اچھی طرح سے سمجھ لیا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ’ انجن کے وسیع پیمانے پر ٹیسٹ کرنے سے پتہ چلا کہ کریک طیاروں کے’غیر معمولی ماحول میں‘ آزمائش کے نتیجے میں پڑا اور کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے۔‘

ترجمان میتھیو بیٹس کے مطابق ایف 35 جہازوں کے معمول کی پرواز کے برعکس جہاز کا انجن چار گنا زیادہ درجہ حرات پر چل رہا تھا۔

امریکی محکمۂ دفاع پینٹاگون نے تصدیق کی ہے کہ تمام اکاون ایف 35 جنگی جہازوں کو پرواز کے لیے کلیئر کر دیا گیا ہے۔

گزشتہ ہفتے پینٹاگون کا کہنا تھا کہ کیلیفورنیا میں واقع ایڈورڈز ایئر فورس بیس پر ایف 35 اے طیاروں کی معمول کی نگرانی کے دوران طیارے کے انجن میں خرابی کا پتہ چلا۔

واضح رہے کہ ایف 35 طیارہ امریکی وزارت دفاع کے جنگی پروگرام کا اب تک کا سب سے مہنگا منصوبہ ہے جس پر تقریباً 400 ارب ڈالر کے اخراجات آئے ہیں۔

گزشتہ دو ماہ میں یہ دوسری بار ہے جب ایف 35 طیاروں کو معطل کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

گزشتہ ماہ میں میرین كور کے ذریعہ استعمال کیے جانے والے لڑاکا طیارے ایف 35 بی اور اسی کے ایک دوسرے ورژن ایس ٹی او وی ایل میں تربیتی پرواز کے دوران اس مخصوص طیارے کی بناوٹ میں خرابی پائے جانے کے بعد تقریباً ایک ماہ تک ان طیاروں کی پرواز پر پابندی لگا دی گئی تھی۔

واضح رہے کہ یہ طیارے چھوٹی جگہ سے اڑان بھر سکتے ہیں اور ہیلی کاپٹر کی طرح عمودی لینڈنگ کر سکتے ہیں جبکہ فضائیہ میں استعمال ہونے والے طیارے معمول کے رن وے سے پرواز کرتے ہیں۔

امریکہ اور اس کے غیر ملکی اتحادیوں کے لیے ہزاروں ایف 35 جنگی جہاز تیار کیے جانے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔