کانگریس میں کٹوتی کے معاہدے پر اختلافات

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 1 مارچ 2013 ,‭ 10:19 GMT 15:19 PST

امریکہ کے صدر براک اوباما نے امریکہ کے متوسط طبقے کے لیے ٹیکسوں میں اضافے اور سرکاری اخراجات میں خود کار کٹوتی سے بچاؤ کے معاہدے پر ناکامی پر کانگریس کے رہنماؤں کو وائٹ ہاؤس طلب کیا ہے۔

یہ معاہدہ پچاسی ارب ڈالر کے سرکاری اخراجات میں خود کار حکومتی کٹوتیوں کے حوالے کیا جانا تھا۔

خیال رہے کہ امریکی ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز کے اراکین بجٹ میں کمی کے معاہدے پر ناکامی کا ذمہ دار ایک دوسرے کو قرار دیتے ہیں۔

ادھر بجٹ میں کٹوتیوں کے حوالے سے ہونے والے معاہدے پر ناکامی کے باعث امریکی کانگریس کا اختتام ہفتہ سے پہلے بلایا جانے والا اجلاس منسوخ کر دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ پچاسی ارب ڈالر کے کٹوتیوں کا معاہدے پر عملدرآمد جمعہ کو ہونا تھا۔

امریکی صدر باراک اوباما نے متنبہ کیا ہے کہ کٹوتیوں سے ملکی معیشت کو نقصان پہنچے گا۔

باراک اوباما نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا کہ سینیٹ کے ارکانِ ریپبلکنز نے اس معاہدے کے حق میں ووٹ دے کر سارا بوجھ مڈل کلاس طبقے پر ڈال دیا۔

ادھر عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ اس معاہدے سے عالمی معیشت پر اثرات مرتب ہوں گے۔

امریکی سینیٹ میں دونوں جماعتوں کی جانب سے پیش کیے جانے والے بِلوں کو شکست ہوئی۔

ٹیکس میں اضافے اور حکومتی اخراجات میں کٹوتی کے بارے میں سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کے دور میں منظور ہونے والا قانون اکتیس دسمبر سنہ دو ہزار بارہ کو ختم ہوگیا تھا اور نئے قانون پر اتقاق نہ ہونے کی صورت میں متوسط طبقے کے لیے ٹیکسوں میں رعایت کے خاتمے اور حکومتی اخراجات میں کٹوتی کا خود کار نظام نافذ العمل ہونا تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔