بنگلہ دیش: ہنگامے جاری، ہلاکتیں 60 سے زائد

آخری وقت اشاعت:  اتوار 3 مارچ 2013 ,‭ 12:53 GMT 17:53 PST

سکیورٹی کی صورتِ حال پر قابو پانے کے لیے فوج طلب کر لی گئی ہے

بنگلہ دیش میں جنگی جرائم کے ایک ٹربیونل کی جانب سے جماعت اسلامی کے رہنما دلاور حسین کو سزائے موت سنائے جانے کے بعد شروع ہونے والے احتجاج اور ہنگاموں میں کم از کم سولہ افراد کی ہلاکت کے بعد ہلاکتوں کی مجموعی تعداد ساٹھ سے تجاوز کر گئی ہے۔

اس عدالتی فیصلے کے خلاف جماعتِ اسلامی کی جانب سے اتوار سے دو روزہ ہڑتال کی اپیل بھی کی گئی ہے جبکہ بنگلہ دیشی حکام نے سکیورٹی کی صورتحال پر قابو پانے کے لیے فوج طلب کر لی ہے۔

واضح رہے کہ جمعرات کو ٹربیونل نے جماعت اسلامی کے اہم رہنما دلاور حسین کو سنہ 1971 کی جنگ آزادی کے دوران قتل، تشدد اور جنسی زیادتی کے جرائم پر سزائے موت سنائی تھی۔

ملک کے مختلف حصوں میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان شدید لڑائی ہوئی ہے۔ اتوار کو پیش آنے والے تشدد کے تازہ واقعات میں آٹھ افراد ملک کے شمالی علاقے بوگرہ میں اس وقت ہلاک ہوئے جب جماعتِ اسلامی کے حامیوں نے تھانوں اور سرکاری عمارات کو نشانہ بنایا۔ ان پرتشدد جھڑپوں میں چالیس افراد زخمی بھی ہوئے۔

راج شاہی اور گوداگری میں دو، دو افراد جھڑپوں کے دوران مارے گئے۔ اس کے علاوہ مقامی اخبار ڈیلی سٹار نیوز کے مطابق جوائے پورہ میں تین افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

شاہجہان پور قصبے کے پولیس سربراہ نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ وہاں جھڑپوں میں چار افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

ہنگامی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے ان دونوں علاقوں میں فوج تعینات کر دی گئی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ سکیورٹی کی صورتِ حال پر قابو پانے کے لیے وہاں بھی فوج تعینات کی گئی ہے۔

اس سے قبل چٹاگانگ میں سنیچر کو تین افراد ہلاک ہوئے تھے جس پر جماعتِ اسلامی کے کارکنوں نے پولیس پر بغیر اشتعال کےگولی چلانے کا الزام لگایا تھا۔

بنگلہ دیش کی حکومت ان الزامات کی تردید کرتی ہے اور حکام کا کہنا ہے کہ پولیس افسروں اور عوام کے خلاف تشدد برداشت نہیں کیا جائے گا۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ دلاور حسین سیدی اور دیگر رہنماؤں پر سیاسی بنیادوں پر الزامات عائد کیے گئے ہیں

چٹاگانگ شہر میں ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ جمعرات کو سنائے جانے والے سزائے موت کے فیصلے کے بعد جاری پر تشدد احتجاج میں کوئی کمی نہیں آئی۔

امریکہ نے بنگلہ دیش میں جاری پر تشدد واقعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور مظاہرین کو پرامن رہنے کی اپیل کی ہے۔

دلاور حسین سیدی جماعت اسلامی کے سب سے سینیئر رہنما ہیں جنہیں ٹربیونل کی جانب سے سزائے موت سنائی گئی ہے۔

انہیں جون سنہ دو ہزار دس میں گرفتار کیا گیا تھا اور انہیں سنہ 1971 کی جنگ آزادی کے دوران قتل عام، ریپ اور دیگر الزامات میں قصور وار ٹھہرایا گیا تھا۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ دلاور حسین سیدی اور دیگر رہنماؤں پر سیاسی بنیادوں پر الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

دوسری طرف گزشتہ بدھ کو دارالحکومت ڈھاکہ میں ہزاروں افراد نے جماعت اسلامی کے رہنما کو سزائے موت دینے کے حق میں مظاہرہ کیا تھا۔

جنگی جرائم کے الزام کے تحت جن افراد کے خلاف مقدمہ چلایا جا رہا ہے ان میں سے آٹھ کا تعلق جماعت اسلامی جبکہ دو کا تعلق حزب اختلاف کی جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی سے ہے۔ اب تک تین رہنماؤں کے خلاف فیصلہ سنایا جا چکا ہے۔

دلاور حسین سیدی نے اپنے اوپر عائد انیس الزامات کو مسترد کیا ہے

دلاور حسین سیدی پر الزام ہے کہ وہ جنگ آزادی کے دوران البدرگروپ کے ساتھ کام کر رہے تھے اور انہوں نے ہندو برادری کے افراد کو زبردستی مسلمان کرنے سمیت متعدد مظالم کیے۔

اس سے پہلے رواں ماہ بنگلہ دیشی پارلیمان نے آئین میں ایک ایسی ترمیم منظور کی تھی جس کے تحت جماعت اسلامی پر سنہ 1971 کی جنگ آزادی کی مخالفت کرنے اور انسانیت کےخلاف جرائم کا ارتکاب کےجرم میں پابندی عائد کی جا سکے گی۔

حکام کا اندازہ ہے کہ 1971 کی جنگ کے دوران تیس لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے۔

اس ترمیم کے تحت جماعت اسلامی کے ایک رہنما عبد القادر ملا کو دی جانے والی عمر قید کی سزا کو موت سزا میں تبدیل کرانے کے لیے حکومت اپیل دائر کر سکے گی۔

بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی پر الزام عائد کیا جاتا ہے کہ اس نے سنہ 1971 کی جنگ آزادی میں پاکستان کا ساتھ دیا تھا۔ بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی اس حزب مخالف کا حصہ ہے جو وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کا سخت مخالف سمجھا جاتا ہے۔

اے ایف پی کے مطابق ملک کے شمالی مغربی قصبےگوداگری سے بھی سرحدی محافظین اور پولیس کی ان مظاہرین پر فائرنگ سے متعدد ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں جو سرکاری اہلکاروں پر لاٹھیاں برسا رہے تھے اور پتھراؤ کر رہے تھے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔