’مالی میں القاعدہ کے سابق رہنما مختار بالمختار ہلاک‘

آخری وقت اشاعت:  اتوار 3 مارچ 2013 ,‭ 10:33 GMT 15:33 PST

بی بی سی کے نمائندے کے مطابق مختار بالمختار کی ہلاکت کی غلط اطلاعات کئی بار پہلے بھی آئیں ہیں

چاڈ کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے مالی میں شدت پسند کمانڈر مختار بالمختار کو ہلاک کر دیا ہے۔

چاڈ کے سرکاری ٹیلی ویژن نے مختار بالمختار کی ہلاکت کا اعلان کیا تاہم دوسرے ذرائع نے ان کی موت کی تصدیق نہیں کی ہے۔

مختار بالمختار القاعدہ کے سابق رہنما ہیں جنہوں نے اطلاعات کے مطابق جنوری میں الجزائر کے گیس پلانٹ پر حملے کا حکم دیا تھا جس میں 37 مغوی ہلاک ہوئے تھے۔

چاڈ کی سرکاری ٹی وی نے چاڈ کی فوج کے حوالے سے بتایا کہ’ چاڈ کے فوج نے افوگاس کے پہاڑوں میں جہادیوں کے ٹھکانوں کو مکمل طور پر تباہ کر دیا جس میں مختار بالمختار سمیت کئی شدت پسند ہلاک کیے گئے۔‘

ٹی وی پر بتایا گیا ہے کہ اس کارروائی میں اسلحہ، آلات اور 60 گاڑیوں کو بھی قبضے میں لے لیا گیا ہے۔

مغربی افریقہ میں بی بی سی کے نمائندے ٹامس فیسی کا کہنا ہے کہ مختار بالمختار کی ہلاکت کی غلط اطلاعات کئی بار پہلے بھی آئی ہیں۔

اس سے ایک دن پہلے چاڈ کے صدر نےسب سے متشدد سمجھے جانے ولے القاعدہ کے سینئر رہنما عبدالحامد ابو زید کو شمالی مالی میں ہلاک کرنے کا اعلان کیا تھا۔

چاڈ کے صدر ادریس دابی نے کہا تھا کہ ان کے فوجیوں نے ابو زید کو مالی کے دور دراز شمالی علاقے میں جھڑپوں کے دوران ہلاک کیا تھا۔

انہوں نے مالی میں لڑائی کے دوران ہلاک ہونے والے چاڈ کے فوجیوں کے جمعے کو جنازے کے بعد بات کرتے ہوئے کہا تھا، ’چاڈ کے فوجیوں نے ابو زید سمیت دو جہادی رہنماوں کو ہلاک کیا ہے۔‘

"چاڈ کے فوجیوں نے ابو زید سمیت دو جہادی رہنماوں کو ہلاک کیا ہے"

چاڈ کے صدر ادریس دابی

اطلاعات کے مطابق الجیریا کے سکیورٹی اہلکاروں نے ابو زید کے دو رشتہ داروں سے ڈی این اے کے نمونے لیے تھے جن کا وہ ان کی لاش کے نمونوں کے ساتھ موازنہ کریں گے۔

ابو زید کو مالی میں بیرونی افواج کے خلاف برسرِپیکار اسلامک مغرب تنظیم میں نائب سربراہ کے طور پر جانا جاتا تھا۔

ایک امریکی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کے شرط پر خبر رساں ادارے اے ایف پی کوبتایا تھا کہ واشنگٹن نے ابو زید کی ہلاکت کے اطلاعات کو ’مصدقہ‘ قرار دیا تھا۔

دوسری طرف فرانس نے اس معاملے میں احتیاط برتنے کے لیے خبردار کیا تھا اور حکومتی ترجمان نجات ولاود بلقاسم نے زور دیا تھا کہ ابو زید کی ہلاکت کی تصدیق نہیں ہوئی۔

ابو زید پر حالیہ سالوں میں درجنوں غیر ملکیوں کو اغوا کرنے کا الزام بھی ہے

اس سے پہلے فرانسیسی میڈیا کی غیر مصدقہ خبروں میں کہا گیا تھا کہ ابو زید فرانسیسی افواج کے خلاف لڑائی میں ہلاک ہوئے تھے۔

عبدالحامد ابو زید الجیریا میں پیدا ہوئے اور ان کی عمر چالیس کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے۔ انہیں اس خطے میں القاعدہ کا سب سے متشدد رہنما سمجھا جاتا تھا۔

ان کو آخری بار گذشتہ سال شدت پسندوں کے قبضےمیں آنے والے مالی کے شہروں ٹمبکٹو اورگاؤ میں دیکھا کیا گیا تھا۔

مالی ، فرانسیسی اور افریقی افواج نے شدت کے قبضے سے اکثر علاقوں کو آزاد کرایا ہے۔

ابو زید پر اس خطے میں حالیہ سالوں میں درجنوں غیر ملکیوں کو اغوا کرنے کا الزام بھی ہے جس میں دو کو انہوں نے ہلاک بھی کر دیا تھا۔

ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اگر ابو زید کی ہلاکت کی تصدیق ہوتی ہے تو ان کے زیرِ حراست کئی فرانسیسی باشندوں کی زندگیوں کے بارے میں خدشات پیدا ہوسکتے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔