شام: ’باغیوں کا پولیس تربیتی مرکز پر قبضہ‘

آخری وقت اشاعت:  اتوار 3 مارچ 2013 ,‭ 16:01 GMT 21:01 PST

شام میں انسانی حقوق کی مختلف تنظیموں کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ باغیوں نے حلب کے قریب واقع ایک پولیس کے تربیتی مرکز کے بڑے حصے پر خونریز لڑائی کے بعد قبضہ کر لیا ہے۔

ایک ویڈیو بظاہر یہ دکھاتی ہے کہ باغی خان الاصل کی اس تربیتی مرکز میں داخل ہو رہے ہیں۔

لندن میں قائم شام میں انسانی حقوق پر نظر رکھنے والی ایک مبصر تنظیم کا کہنا ہے کہ دونوں جانب کےتقریباً دو سو افراد ہلاک ہو چکے ہیں اس لڑائی میں جو گزشتہ آٹھ دنوں سے جاری تھی۔

یہ بات اہم ہے کہ اس انسانی حقوق کی تنظیم یا ان کارکنوں کی رپورٹوں کی آزادانہ زرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

شام کے صدر بشارالاسد نے برطانوی اخبار ’سنڈے ٹائمز‘ کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ یہ بات فضول ہے کہ یہ تنازع بطور ملک کے سربراہ ان کے مستقبل کے بارے میں ہے۔

شام میں حکومت مخالف کارکنوں کا کہنا ہے کہ ملک کے ایک شمالی صوبے رقہ کے دارالحکومت میں سرکاری فوج اور باغیوں کے درمیان جھڑپوں میں کئی درجن افراد ہلاک ہو چکے ہیں جہاں باغیوں کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے ایک جیل پر قبضہ کر لیا ہے۔

برطانوی اخبار ’سنڈے ٹائمز‘ کو دیے گئے انٹرویو میں شام کے صدر بشارالاسد نے کہا کہ ان کے ملک میں جاری بحران کے خاتمے کے حوالے سے برطانوی حکومت اپنے رویے میں ’تذبذب غیر حقیقت پسندی اور سادگی‘ کا شکار ہے۔ صدر بشار الاسد نے کہا کہ برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون اس ساری صورتحال کو فوجی تنازعے میں بدلنے پر تلے ہوئے ہیں۔

برطانوی اخبار ’سنڈے ٹائمز‘ کو دیے گئے انٹرویو میں شام کے صدر بشارالاسد نے کہا کہ ان کے ملک میں جاری بحران کے خاتمے کے حوالے سے برطانوی حکومت اپنے رویے میں ’تذبذب غیر حقییقت پسندی اور سادگی‘ کا شکار ہے

اگرچہ برطانیہ کا کہنا ہے کہ وہ شامی باغیوں کی بغیر انہیں اسلحہ فراہم کرنے کی حمایت کرتا ہے مگر گزشتہ دنوں برطانوی وزیر خارجہ ولیم ہیگ نے کہا کہ ’مستقبل میں کسی بھی امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا ہے‘۔

شامی صدر کے اس انٹرویو کو مسترد کرتے ہوئے ولیم ہیگ نے کہا کہ ان کا انٹرویو ’مغالطہ آمیز‘ ہے اور یہ کہ برطانیہ ’ایک جانب بیٹھ کر یہ سب کچھ ہوتا دیکھ نہیں سکتا‘۔

واضح رہے کہ برطانیہ کے وزیرِ خارجہ ولیم ہیگ نے روم میں شام کے دوست ممالک کے ایک اجلاس میں کہا تھا کہ مستقبل میں شام میں فوجی امداد ممکن ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ اس ہفتے شامی حزب اختلاف کے لیے ہتھیاروں کی فراہمی کا اعلان نہیں کریں گے مگر انہوں نے کہا کہ اب ’بہت سارا‘ غیر مہلک سازوسامان یورپین معاہدے کے تحت دیا جاسکتا ہے جس کی اس معاہدے کے تحت اجازت ہے۔

صدر بشارالاسد نے ایک بار پھر شام کی حزب مخالف کو مشروط مذاکرات کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہر ایسے گروہ کے ساتھ مذاکرات کرنے پر تیار ہیں جو ہتھیار پھینک دے گا۔

انہوں نے کہا کہ وہ دہشت گردوں سے مذاکرات نہیں کریں گے جو ہتھیار اٹھائے ہوئے ہیں۔

صدر بشار الاسد نے کہا کہ ہم کس طرح یہ امید کر سکتے ہیں کہ برطانیہ شام میں جاری تشدد کو کم کر سکتا ہے جب وہ خود دہشت گردوں کو مسلح کرنا چاہتا ہے۔

دوسری جانب برطانیہ کا کہنا ہے کہ وہ شام کی حزب مخالف کی حمایت کرتا ہے تاہم وہ باغیوں کو ہتھیار فراہم نہیں کرتا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔