'فوربز نے میری دولت کم بتائی ہے‘

آخری وقت اشاعت:  منگل 5 مارچ 2013 ,‭ 16:36 GMT 21:36 PST
سعودی شہزادہ الولید بن طلال

شہزادہ الولید کے دفتر کا کہنا ہے کہ فوربز کا سرمائے کی قیمت لگانے کا طریقہ کار ٹھیک نہیں ہے

سعودی عرب کے شہزادے الولید بن طلال نے امریکی جریدہ ’فوربز‘ پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے ان کی دولت کا کم اندازہ لگا کر انہیں امیر ترین شخصیات کی فہرست میں صحیح مقام نہیں دیا۔

جریدے نے سال سنہ 2013 میں دنیا کی امیر ترین شخصیات کی فہرست میں شہزادہ الولید کی دولت کا اندازہ بیس ارب ڈالر لگایا تھا اور ان کو اس فہرست میں چھبیسویں نمبر پر رکھا تھا۔

سعودی شہزادے کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں الزام لگایا گیا ہے کہ فوربز نے جو طریقہ کار استمعال کیا ہے وہ ناقص ہے کیونکہ وہ مشرق وسطی کے سرمایہ کاروں کو کم تر دکھاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فوربز جریدے نے سعودی عرب کے حصص بازار کی قیمتوں کو قبول کرنے سے انکار کیا تھا حالانکہ وہ میکسیکو جیسی معیشتوں کی قیمتوں کو قبول کر رہے تھے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس سے ظاہر ہے کہ فوربز مختلف ممالک کے لیے مختلف معیار استعمال کرتا ہے۔

"سعودی شہزادے کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں الزام لگایا گیا ہے کہ فوربز نے جو طریقہ کار استمعال کیا ہے وہ ناکس ہے کیونکہ وہ مشرق وسطی کے سرمایہ کاروں کو کم تر دکھاتا ہے"

شہزادہ الولید کے دفتر کے مطابق انہوں نے فوربز سے درخواست کی ہے کہ وہ شہزادے کا نام اس فہرست سے نکال دیں۔

شہزادے کی ’کنگڈم ہولڈنگ کمپنی‘ کے چیف فائنانشیل افسر کے مطابق ’ہم کئی سالوں سے فوربز کے ساتھ کام کرتے رہے ہیں اور کئی مرتبہ فوربز کو ان کے طریقہ کار سے متعلق مسائل سے آگاہ کر چکے ہیں۔ ہم کئی سالوں سے ان سے کہہ رہے ہیں کہ ان چیزوں کو درست کرنے کی ضرورت ہے تاہم اب ہم پر یہ واٰضح ہو گیا ہے کہ فوربز کا اس بارے میں کچھ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ اس لیے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ کیونکہ فوربز ہماری سرمایہ کاری کی صحیح قیمت نہیں لگا رہا ہم اب اس سے آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔‘

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔