مصر: عدالت نے انتخابات معطل کر دیے

آخری وقت اشاعت:  بدھ 6 مارچ 2013 ,‭ 16:11 GMT 21:11 PST
 احتجاج

حزب اختلاف نے صدر مرسی کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

مصر کی ایک عدالت نے اپریل سے شروع ہونے والے عام انتخابات کو معطل کرنے کا حکم دیا ہے۔

انتظامی امور کی اس عدالت کے مطابق یہ ضروری ہے کہ اب سپریم کورٹ انتخابات سے متعلق قوانین کا جائزہ لے اور یہ فیصلہ کرنے کہ کیا یہ آئین سے مطابقت رکھتے ہیں یا نہیں۔

مصری صدر محمد مرسی نے اعلان کیا تھا کہ انتخابات بائیس اپریل سے شروع ہوں گے، اور یہ سلسلہ دو ماہ میں چار مرحلوں میں پورا کیا جائے گا۔

حزب اختلاف کی اہم جماعتوں نے انتخابات کا بائکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ نیشنل سیلویشن فرنٹ( این ایس ایف) کا کہنا ہے کہ انتخابی قوانین سے صدر کے اسلامی حامیوں کو فائدہ ہوتا ہے۔

حزب اختلاف نے یہ بھی خدشہ ظاہر کیا ہے کہ انتخابات آزادانہ اور شفاف نہیں ہوں گے۔

مصر میں مذہبی جماعتوں اور سیکیولر طاقتوں میں اختلافات بڑھتے نظر آتے ہیں ۔

فروری میں معذول صدر حسنی مبارک کے حکومت کے خاتمے کی دوسری برسی منائی گئی لیکن صرف فروری سے ہی مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں میں ستر سے زیادہ لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔