اوگو چاویس نے کیا بدلا؟

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 7 مارچ 2013 ,‭ 20:54 GMT 01:54 PST
اوگو چاویس

چاویس نے خطے کے ممالک میں تعاون کے لیے سرگرم رہے

اوگو چاویس 1992 میں وینزویلا کے سیاسی منظر عام پر اس وقت سامنے آئے جب ان کی قیادت میں کی گئی ایک فوجی بغاوت ناکام ہوئی۔

چاویس کو قید کی سزا ہوئی لیکن دو سال بعد حکومت نے انہیں رہا کر دیا کیونکہ شاید وہ ان سے کوئی خطرہ محسوس نہیں کرتے تھے۔

تاہم چاویس نے سیاستدانوں میں کرپشن اور سرکاری رویے کو اپنے بیانات میں تنقید کا نشانہ بنائے رکھا اور یہ پیغام عوام میں بہت مقبول رہا۔ چاویس 1998 میں صدارتی انتخاب جیت گئے۔

اپنے پہلے دور اقتدار میں چاویس نے خارجہ پالسی میں معتدل رویہ رکھا اور کئی مرتبہ امریکہ کا دورہ بھی کیا۔ لیکن وینزویلا کے اندر انہوں نے غریب عوام کے لیے صحت، تعلیم، خوراک، زمین اور سوشل سکیورٹی تک رسائی کے پروگرام شروع کیے۔ ان اصلاحات کو کامیاب بنانے کے غرض سے انہوں نے کیوبا کی مدد لی۔

سنہ 2000 میں صدر چاویس نے ایک نیا آئین متعارف کیا جس سے یہ واضح ہو گیا کہ وہ طویل عرصے تک سیاسی میدان میں رہنے کا ارادہ رکھتے ہیں کیونکہ نئے آئین میں دوبارہ صدر بننے پر کوئی پابندی نہیں تھی۔

اس پر ان کے مخالفین نے کی مخالفت کی اور اپریل 2002 کی بغاوت میں میں انہوں نے اوگو چاویس کو ایوان صدر سے نکال دیا۔ لیکن نکالے جانے کے صرف اڑتالیس گھنٹے کے اندر فوج نے صدر چاویس کو بحال کر دیا حالانکہ بغاوت کی ابتدا میں ایسا معلوم ہو رہا تھا کہ فوج نے اس کی حمایت کی ہے۔

بحالی کے بعد صدر چاویس اپنے دشمنوں کے خلاف سرگرم ہو گئے اور کھل کر انہیں تنقید کا نشانہ بنانے لگے۔ انہوں نے ملک میں روایتی سیاستدان طبقے کو خاص نشانہ بنایا۔ اس امیر اور باثر طبقے کے اثر کو کم کرنے کے لیے انہوں نے عدلیہ پر زور دیا کہ ایسے قوانین پر عمل کیا جائے جن کے تحت نجی شعبے میں ذرائع ابلاغ کے کنٹرول اور ملکیت کو محدود کیا جائے۔ ساتھ انہوں نے سرکاری ٹیل ویژن کو فروغ دیا۔

وینزویلا کے سرکاری پیٹرولیم کمپنی میں بھی انہوں نے ٹیکنکل لوگوں کی جگہ اپنے حامیوں کو بھرتی کیا۔

ایران کے صدر احمدی نژاد کے ساتھ

صدر چاویس نے امریکہ کے دشمنوں سے دوستی کی

اپنی حمایت بڑھانے کے لیے صدر چاویس نےتیل کی بڑھتی ہوئی قیمت سے ملک کو حاصل ہونے والی رقم کو عوامی صحت و بہبود کے پروگراموں میں خرچ کرنا شروع کر دیا۔ ملک میں کم سے کم تنخواہ کو بڑھا دیا گیا جس سے غریب شہریوں کے حالات بہتر ہوئے۔

صدر چاویس نے بحالی کے بعد ایک جارحانہ قسم کی خارجہ پالسی اپنائی۔ انہوں نے امریکہ کے دشمنوں اور مخالفین سے رابطے اور رشتے قائم کیے اور خاص طور پر کیوبا کے ساتھ تعلقات کو بڑھایا۔

لیکن ان کا کیربیئن اور لاطینی امریکہ کے تمام ممالک کا ایک بڑا اتحاد قائم کرنے کا خواب پورا نہ ہو سکا۔ وہ اپنے ہیرو اور دو صدیوں پہلے جنوبی امریکہ میں آزادی کے لیے لڑنے والے سیمون دے بولیوار کے اس منصوبہ کو تکمیل تک پہنچانا چاہتے تھے۔

خطے کے بڑے اتحاد کے اس سلسلے میں انہوں نے ’پیٹروکاریبے‘ کے نام سے ایک منصوبہ شروع کیا جس کے تحت کیربیئن اور وسطی امریکہ کے ممالک کو کم قیمت پر تیل فراہم کیا جاتا تھا۔ یہ ان ممالک میں بہت مقبول رہا اور صرف باربیڈوس نے اس میں شریک ہونے سے انکار کیا۔

اس کے بعد صدر چاویس نے ’آلبا‘ نامی منصوبہ شروع کیا جس میں کیوبا، بولیویا، ایکواڈور، ہونڈوراس اور نکاراگوا شامل ہوئے۔

ان کے اور برازیل کے صدر لولا دا سِلوا کی کوششوں کے بعد’اوناسور‘ نامی تنظیم قائم کی گئی جو جنوبی امریکی ممالک کی اتحاد تھی۔ ایک ترقیاتی بینک بھی قائم کیا گیا جس کا مقصد آئی ایم ایف کے اثر و رسوخ کو کم کرنا تھا۔

"خطے کے بڑے اتحاد کے اس سلسلے میں صدر چاویس نے ’پیٹروکاریبے‘ کے نام سے ایک منصوبہ شروع کیا جس کے تحت کیربیئن اور وسطی امریکہ کے ممالک کو کم قیمت پر تیل فراہم کیا جاتا تھا"

صدر چاویس چاہتے تھے کہ وینزویلا خطے کی تنظیم ’میرکو سور‘ میں بھی شامل ہو لیکن پیراگوائے نے ان کی مخالفت کی۔ پریاگوائے کے ساتھ اس تنظیم میں آرجنٹینا، برازیل اور یوراگوائے شامل تھے۔ سنہ 2012 میں پیراگوائے میں سیاسی بے یقینی کے بعد اس کی تنظیم میں رکنیت معطل ہوئی تو وینزویلا جولائی 2012 می اس میں شامل ہو سکا۔

صدر اوگو چاویس کی غریب نواز پالسیوں نے ان کو غریب اور متوسط طبقے کے ووٹروں میں بہت مقبول بنایا۔ لیکن ان کی حکومت نے ملک کے کئی اہم مسائل پر توجہ نہیں دی جن سے ملک کے تمام طبقے متاثر ہوتے۔ ان میں سر فہرست جرائم کا مسئلہ تھا۔ جرائم کی شرح خاص طور پر قتل کے واقعات بڑھتے گئے۔

اسی طرح افراط زر پر بھی قابو پانے کی کوشش نہیں کی گئی اور تیل کی اونچی عالمی قیمت کے باوجود وینزویلا کی کرنسی کی قیمت کم ہوتی گئی۔ ساتھ کرپشن بھی ایک مسئلہ رہا اور چاویس کے خاندان پر اقربہ پروری اور بدعنوانی کے بہت الزامات لگے (جن سے وہ انکار کرتے رہے)۔ ملک کے سرکاری ذرائع کا غلط استعمال بھی ایک مسئلہ تھا اور بیوروکریسی، عدلیہ اور سرکاری اداروں میں بھی بڑے پیمانے پر سیاسی تقرریاں کی گئیں۔

اوگو چاویس کے بعد جو بھی صدر آئے گا چاہے وہ ان کی جماعت سے ہو یا حزب مخالف سے اس کو ان مشکل مسائل سے نمٹنا ہوگا۔ لیکن ایک بات یقینی ہے ، وہ اتنی زیادہ کرشماتی شخصیت کا حامل نہیں ہوگا جتنا کہ اوگو چاویس تھے۔ اب وینزویلا اپنی دو سو سالہ تاریخ کے ایک نئے باب کے در پر ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔