چاویس کی نعش آخری دیدار کے لیے رکھ دی گئی

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 7 مارچ 2013 ,‭ 08:01 GMT 13:01 PST

چاویس کے مداح بدھ کے روز کراکس میں ان کے تابوت کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے جمع ہو گئے

وینزویلا کے صدر اوگو چاویس کی نعش کو دارالحکومت کراکس کی فوجی اکیڈمی میں آخری دیدار کے لیے رکھ دیا گیا ہے۔

بدھ کے روز ان کے خاندان کے افراد، قریبی مشیروں اور ارجنٹینا، بولیویا اور یوروگوئے کے صدور نے ان کے کھلے تابوت کے قریب آ کر تعظیم پیش کی۔

58 سالہ چاویس دو برس سے کینسر کے عارضے میں مبتلا تھے۔

اس سے قبل لاکھوں افراد چاویس کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے شہر کی گلیوں میں جمع ہو گئے، جس کی وجہ سے سابق صدر کی نعش کو اکیڈمی تک پہنچنے میں کئی گھنٹے لگے۔

ان کی آخری رسومات جمعے کو ادا کی جائیں گی۔

خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے صدارتی محافظوں کے سربراہ جنرل ہوزے اورنیا کے حوالے سے بتایا ہے کہ وہ چاویس کے آخری لمحات میں ان کے ساتھ تھے۔

ہوزے اورنیا نے بتایا کہ چاویس کی موت دل کا شدید دورہ پڑنے کے باعث ہوئی، اور اپنے آخری لمحات میں وہ زندہ رہنا چاہتے تھے: ’وہ بول نہیں سکتے تھے لیکن انھوں نے ہونٹ ہلا کر کہا، ”میں مرنا نہیں چاہتا۔ برائے مہربانی مجھے مرنے سے بچائیں۔‘

چاویس کے مداح بدھ کے روز کراکس میں ان کے تابوت کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے جمع ہوئے۔ تابوت کو فوجی ہستپال سے فوجی اکیڈمی تک ایک بگھی میں لے جایا گیا۔

"یسوع مسیح کے بعد اوگو چاویس ہیں۔ ان سے پہلے حکومت کو ہماری کوئی فکر نہیں ہوتی تھی۔ اب بچوں کے پاس سب کچھ ہے۔"

ایک مداح ماریا الیگزانڈرا

بہت سے ماتم گساروں نے چاویس کی تصویر والی سرخ ٹی شرٹیں پہن رکھی تھیں۔ انھوں نے وینزویلا کے قومی پرچم میں لپٹے ہوئے تابوت پر پھول نچھاور کیے۔

بی بی سی کے نامہ نگار ول گرانٹ کا کہنا ہے کہ چاویس کے بہت سے حامیوں نے اپنی زندگیاں تبدیل کرنے کے لیے چاویس کا شکریہ ادا کیا۔

ایک مداح ماریا الیگزانڈرا نے کہا: ’یسوع مسیح کے بعد اوگو چاویس ہیں۔ ان سے پہلے حکومت کو ہماری کوئی فکر نہیں ہوتی تھی۔ اب بچوں کے پاس سب کچھ ہے۔‘

چاویس کے خاندان اور لاطینی امریکہ کے رہنماؤں نے اکیڈمی کے چرچ میں عشائے ربانی کی مذہبی رسم میں شرکت کی۔

اس کے بعد ان کی والدہ اور بچے تابوت کے گرد جمع ہوئے اور تعظیم پیش کی۔ اس کے بعد فوجی کمانڈروں اور کابینہ کے ارکان نے باری باری تابوت کے پاس حاضری دی۔

ہمارے نمائندے کے مطابق چاویس کی موت سے ان کے سیاسی مہم کے مرکز میں خلا پیدا ہو گیا ہے۔ آئین کے تحت 30 دن کے اندر اندر انتخابات ہونا لازمی ہیں اور حکومت نے کہا ہے کہ وہ نظام الاوقات کی پابندی کرے گی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔