’سٹوڈنٹ ویزا نظام کی خامیاں دور کی جائیں‘

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 7 مارچ 2013 ,‭ 09:38 GMT 14:38 PST

شیڈو سیکریٹری داخلہ ایویٹ کوپر

برطانوی حزبِ اختلاف کی جماعت لیبر پارٹی کی رہنما اور ’شیڈو‘ وزیرِ داخلہ ایویٹ کوپر کا کہنا ہے کہ سٹوڈنٹ ویزا کے نظام میں خامیوں کی وجہ سے ہزاروں افراد بغیر کسی چھان بین کے برطانیہ میں داخل ہو جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ برطانیہ میں وزراء کی کارکردگی پر نظر رکھنے کے لیے حزبِ اختلاف بھی اپنی’شیڈو‘ کابینہ تشکیل دیتی ہے جس کے ارکان اپنے متعلقہ محکمے میں حکومتی کارکردگی پر نظر رکھتے ہیں۔

لندن میں ایک تقریر سے قبل ایویٹ کوپر نے بی بی سی کو بتایا کہ مستحق طلبہ کو ویزا نہیں ملتا جب کہ مختصر مدت کے لیے تعلیمی ویزے کا غلط استعمال بڑھ رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ کُل امیگریشن کے ہدف میں کمی پر توجہ مرکوز کرنے کا مطلب یہ ہے کہ حکومت غیر قانونی امیگریشن کو روک نہیں پا رہی۔

وزرا کا کہنا ہے کہ لیبر پارٹی نے اپنے دورِ اقتدار میں امیگریشن کے مسئلے کو قابو سے باہر ہونے دیا تھا۔ کوپر نے اپنی تقریر میں اس بات کا اعتراف کریں گی کہ لیبر پارٹی نے امیگریشن پر ہمیشہ درست قدم نہیں اٹھائے۔

انسٹی ٹیوٹ فار پبلک پالیسی میں بات کرتے ہوئے کوپر یہ کہیں گی کہ امیگریشن کو مناسب طریقے سے برتا جائے تاکہ یہ ’سب کے لیے منصفانہ ہو۔‘

وہ یہ کہیں گی کہ اس کا مطلب ’دائیں بازو کی طرف جھکاؤ‘ نہیں ہے، بلکہ ’موثر امیگریشن اور غیر موثر امیگریشن‘ میں فرق ظاہر کرنے کی کوشش ہے۔

"یونیورسٹیوں کے جائز طلبہ کو اس ہدف میں شامل کیا جا رہا ہے، اور ان پر سختی کی جا رہی ہے، حالانکہ وہ ملک کے اندر اربوں پاؤنڈ لے کر آتے ہیں۔"

ایویٹ کوپر

وہ اپنی تقریر میں کہیں گی، ’جب حکومت معقول پالیسیاں متعارف کروائے گی تو ہم اس کی حمایت کریں گے، لیکن اگر وہ غلطی کریں گے تو ہم ان کی نشان دہی کریں گے۔‘

’لیکن ہم امیگریشن کے مسئلے پر بیان بازی کی دوڑ میں حصہ نہیں لیں گے، اور ہمیں امید ہے کہ وزیرِاعظم بھی ایسا نہیں کریں گے۔ یہ برطانیہ کے لیے بہتر ہو گا۔‘

ایویٹ کوپر نے بی بی سی کے ایک پروگرام میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ انتخابات کے بعد کل امیگریشن میں 72 ہزار کی کمی آئی ہے، جس کی وجہ یہ ہے کہ بہت سے برطانوی ملک چھوڑ کر جا رہے ہیں اور پھر واپس نہیں آ رہے۔ اس کے علاوہ برطانیہ میں آ کر پڑھنے والے طلبہ کی تعداد میں بھی 38 ہزار کی کمی واقع ہوئی ہے۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ ڈیڑھ لاکھ ایسی رپورٹیں موجود ہیں جن میں ممکنہ طور پر سٹوڈنٹ ویزا کا غلط استعمال کیا گیا ہے، لیکن برطانیہ کی بارڈر ایجنسی نے ان کی چھان بین نہیں کی۔

’یونیورسٹیوں کے جائز طلبہ کو اس ہدف میں شامل کیا جا رہا ہے، اور ان پر سختی کی جا رہی ہے، حالانکہ وہ ملک کے اندر اربوں پاؤنڈ لے کر آتے ہیں، جبکہ سٹوڈنٹ وزیٹر ویزے اس میں شامل نہیں ہیں اور اس شعبے میں بڑھتے ہوئے ناجائز استعمال کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ مختصر مدت کے سٹوڈنٹ ویزوں کی زیادہ سختی سے چھان بین ہونی چاہیے۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔