افغانستان کی نادیدہ خاتونِ اول

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 8 مارچ 2013 ,‭ 10:23 GMT 15:23 PST

زینت کرزئی ڈاکٹر ہیں اور انھوں نے شادی سے پہلے وہ پاکستان میں برسوں تک کام کرتی رہی ہیں

زینت کرزئی کو افغانستان کی نادیدہ خاتونِ اول کہا جاتا ہے۔ افغانستان کے صدر حامد کرزئی کی 43 سالہ اہلیہ زینت کو عوامی سطح پر بہت کم دیکھا گیا ہے اور اسی لیے ان پر تنقید کی جاتی ہے کہ وہ ملک میں خواتین کے حقوق کے لیے کوششیں نہیں کر رہیں۔

زینت کرزئی نے اس ہفتے بی بی سی کی مریم غمگسار اور فریبا ظاہر کو انٹرویو دیا۔ افغانستان کی خاتون اول سخت سکیورٹی میں صدارتی محل میں رہائش پذیر ہیں۔

صدارتی محل میں داخل ہونے کے لیے پانچ نہایت سخت سکیورٹی چیک پوسٹوں سے گزر کر اپارٹمنٹ میں داخل ہوئے جہاں خاتون اول افغان صدر اور اپنے دو بچوں کے ہمراہ رہتی ہیں۔

زینت کرزئی کا کہنا ہے ’یہ بہت مشکل ہے کہ آپ پر 24 گھنٹے نظر رکھی جاتی ہے۔ میں تو صدارتی محل سے باہر رہنے کو ترجیح دیتی ہوں‘۔

انہوں نے مذید کہا کہ سکیورٹی کی صورت حال کے باعث بہت سی ذہین خواتین عوامی جگہوں پر نظر نہیں آتیں۔

’میں کبھی بھی افغانستان کے اندر نہیں جاتی، بلکہ لوگ یہاں آتے ہیں۔ میرا بہت سی عام افغان خواتین سے رابطہ ہے، جو سیاست، سماجی معاملات، تعلیم اور صحت سے وابستہ ہیں۔ وہ اکثر مجھ سے ملنے اور اپنے خیالات کا تبادلہ کرنے کے لیے آتی ہیں‘۔

زینت کرزئی کی گوشہ نشینی پر بعض افغان تنقید بھی کرتے ہیں، خاص طور پر نئی نسل کہتی ہے کہ وہ خواتین کے حقوق کے لیے کام نہیں کر رہیں اور نہ ہی خود کوئی مثال قائم کر رہی ہیں۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ بات اور بھی زیادہ اس لیے کھلتی ہے کہ وہ کوالیفائیڈ ڈاکٹر ہیں، جنھوں نے شادی سے قبل کچھ عرصہ پاکستان میں کام بھی کیا ہے۔

لیکن زینت کرزئی کہتی ہیں ’میں جانتی ہوں کہ میری شراکت میڈیا پر نظر نہیں آتی۔ لیکن افغانستان کے موجود حالات کے پیشِ نظر جو مجھ سے ہو سکتا تھا وہ میں نے کیا ہے‘۔

ان کا اشارہ صرف سلامتی کی صورتِ حال سے نہیں ہے۔ ان کا کردار ثقافتی حساسیت کی وجہ سے بھی محدود ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ان کا ملک کسی خاتونِ اول کو اپنے خاوند کے شانہ بشانہ دیکھنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

’میرا خیال ہے کہ اس کے لیے مذید وقت درکار ہے۔ ملک 30 برسوں سے جنگ کا شکار ہے۔ ہمیں ہر چیز کو بتدریج ٹھیک کرنا، اور اپنے رسوم و روایات کے دائرے میں رہ کر کام کرنا ہو گا‘۔

ان روایات میں افغان پشتون مردوں کا یہ تصور بھی شامل ہے کہ عورتوں کی غیر مردوں کے درمیان موجودگی قابلِ شرم ہے۔

"میں جانتی ہوں کہ میری شراکت میڈیا پر نظر نہیں آتی۔ لیکن افغانستان کے موجود حالات کے پیشِ نظر جو مجھ سے ہو سکتا تھا وہ میں نے کیا ہے۔"

زینت کرزئی

حتیٰ کہ خود حامد کرزئی کے بارے میں یہی کہا جاتا ہے۔ لیکن زینت کہتی ہیں کہ گھر کی چاردیواری میں رہنے کا فیصلہ ان کا اپنا ہے۔

وہ کہتی ہیں ’ہم دونوں اپنے ملک کی روایات اور رسم و رواج سے واقف ہیں، ہمیں اس بات کا خیال رکھنا چاہیے‘۔

عوام کی نظروں سے دور ہونے کے باوجود زینت کرزئی نے دوسرے ممالک سے افغانستان کے دورے پر آنے والی متعدد خواتینِ اول سے ملاقاتیں کی ہیں۔

وہ چیری بلیئر، لارا بش اور من موہن سنگھ کی اہلیہ گروشرن کور سے مل چکی ہیں۔ ان کی ایرانی صدر کی اہلیہ اعظم السادات فرحی سے دوستی ہے اور دونوں فون پر بات کرتی ہیں۔

زینت اور حامد کرزئی کی شادی کو 14 سال ہو گئے ہیں۔ خاتونِ اول بننے کے بعد ان کے دو بچے ہوئے ہیں۔

ان کا بیٹا میر وائس چھ برس کا ہے جب کہ ان کی چھوٹی بیٹی کا نام ملالہ ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ صدر کرزئی اپنے بچوں سے بہت پیار کرتے ہیں، تاہم وہ انھیں بچوں کے ساتھ رہنے کا کا زیادہ وقت ملتا۔

اپنے خاوند کی طرح زینت بھی اچھے کپڑوں کا شوق رکھتی ہیں، جسے وہ افغان سٹائل کہتی ہیں۔

بی بی سی کے ساتھ انٹرویو کے وقت وہ ہلکے سبز رنگ کا لباس اور میچنگ دوپٹا پہنے ہوئے تھیں۔

افغانستان کی بہت سی خواتین بغیر کسی جبر کے بھی برقع پہنتی ہیں، لیکن زینت کا کہنا ہے کہ یہ افغان ثقافت کا حصہ ہرگز نہیں ہے۔

’برقع باہر سے برآمد کیا گیا ہے۔ بہت سے دیہی علاقوں میں عورتیں صرف سر پر دوپٹا لیتی ہیں۔ یہی افغان لباس ہے‘۔

اگرچہ افغانستان کی خاتونِ اول خود عوامی زندگی میں بڑا کردار ادا نہیں کر پا رہیں، لیکن وہ چاہتی ہیں کہ ان کے بچے افغانستان ہی میں تعلیم حاصل کریں، اور بعد میں اگر چاہیں تو سیاست میں بھی حصہ لیں۔

انھوں نے کہا، ’ان کے والد نے اس ملک کے لیے اتنا کچھ کیا ہے۔ اچھا ہو گا کہ وہ بھی اپنے ملک کی خدمت کر سکیں۔‘

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔