’اوہیورو کینیاٹا کینیا کے نئے منتخب صدر‘

آخری وقت اشاعت:  اتوار 10 مارچ 2013 ,‭ 22:32 GMT 03:32 PST

اوہیورو کینیاٹا نےانتخابات کو جمہوریت کی فتح قرار دیا

کینیا میں اوہیورو کینیاٹانے ملک کے صدارتی انتخابات جیت لیے ہیں تاہم ان کے مخالف امیدوار رئیلا اودینگو نے انتخابات کے نتائج کو عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ملک کے الیکشن کمیشن نے سنیچر کو کہا کہ اوہیورو کینیاٹا نے قابلِ اعتماد اور شفاف انتخابات میں50.7 فیصد ووٹ لے کر معمولی مارجن سے جیت حاصل کی ہے۔

کمیشن کے مطابق انتخابات میں حصہ لینے والے ووٹروں کا تناسب 86 فیصد رہا جو کہہ ملک کی تاریخ میں سب سے زیادہ ہے۔

جیت کے بعد اوہیورو کینیاٹا نے کہا کہ ووٹروں نے ’قانون کی پاسداری‘ کی ہے اور وہ مخالفین کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔

نتائج سامنے آنے پر انہوں نے جشن مناتے ہوئے اپنے حمایتیوں سے کہا کہ وہ بلا خوف و خطر تمام کینیائی عوام کی خدمت کریں گے۔

نیروبی کے کیتولک یونیورسٹی میں تقریر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کینیائی ’جمہورت کی جیت، امن کی جیت اور قومی یک جہتی‘ کی خوشی منا رہے تھے۔

اوہیو کینیاٹا نے کہا کہ’ ووٹروں نے توقع سے زیادہ سیاسی پختگی کا مظاہرہ کیا ہے‘۔ انہوں نے رئیلا اودینگا اور دوسرے رہنماؤں کو مخاطب ہو کر کہا کہ’اس قوم کو آگے لے جانے کے لیے ہمارے ساتھ دیں۔‘

متنازع نتائج

ملک کے موجودہ وزیر اعظم اور صدارتی انتخابات میں اوہیورو کینیاٹا کے مخالف امیدوار رئیلا اودینگا نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے ’کینیائی عوام کو ناکام‘ کر دیا ہے۔انہوں نے اعلان کیا کہ وہ ان ’متنازع انتخابات‘ کے نتائج کو سپریم کورٹ میں چیلنج کریں گے۔

تاہم ملک کے موجودہ وزیر اعظم اور صدارتی انتخابات میں کینیاٹا کے مخالف امیدوار رئیلا اودینگا نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے ’کینیائی عوام کو ناکام‘ کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ ان ’متنازع انتخابات‘ کے نتائج کو سپریم کورٹ میں چیلنج کریں گے۔

رئیلا اودینگو نے عوام سے پرامن رہنے کی اپیل بھی کی’کسی بھی قسم کا تشدد اس ملک کو ہمیشہ کے لیے تباہ کر دے گا۔‘

یاد رہے کہ الیکٹرانک نظام میں خرابی کی وجہ سے ووٹوں کی گنتی متاثر ہوئی تھی۔

رئیلا اودینگا کے کارڈ اتحاد نے اس سے پہلے شکایت کی تھی کہ گیارہ حلقوں کے ووٹ غائب تھے جس کی وجہ سے انہیں دو لاکھ پچاس ہزار ووٹ کم پڑے۔

دوسری طرف اوہیوو کینیاٹا اور ان کے نائب ویلیم روٹوکو 2007 کے انتخابات کے بعد مبینہ طور پر فسادات میں کردار ادا کرنے پر جرائم کی بین الاقوامی عدالت میں مقدمے کا سامنا کرنا ہو گا۔

مغربی طاقتوں نے بھی اوہیورو کینیاٹا کا نام لیے بغیر پرامن انتخابات کا خیر مقدم کیا۔

امریکہ کے سیکرٹری خارجہ جان کیری نے ان انتخابات کو ’تاریخی لمحہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ ’کینیائی عوام کا قریبی دوست اور اتحادی رہے گا۔‘

افریقہ کے لیے برطانیہ کے وزیر مارک سیمنڈز نے تمام رہنماؤں پر حالات قابو میں رکھنے پر زور دیا۔ .

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔