شام میں قتلِ عام کے شواہد موجود ہیں:اقوامِ متحدہ

آخری وقت اشاعت:  پير 11 مارچ 2013 ,‭ 12:37 GMT 17:37 PST
اقوامِ متحدہ

پہلے بھی سکیورٹی فورسز اور باغیوں پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات لگائے جا چکے ہیں

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ اس کے پاس شام میں کئی علاقوں میں قتلِ عام اور تباہی کے شواہد موجود ہیں۔

ایک تازہ رپورٹ میں اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کرنے والے کارکنوں نے حکومت اور باغی فورسز دونوں پر الزام لگایا ہے کہ وہ انسانی جانوں کا کوئی لحاظ نہیں کر رہے۔

رپورٹ میں حال ہی میں حمص شہر تین قتلِ عام کی مثال دی گئی ہے، جہاں اقوامِ متحدہ کے مطابق حکومتی فورسز نے پچاس قیدیوں کو ہلاک کیا ہے اور گھروں میں موجود پورے کے پورے خاندانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا ہے تاہم یہ معلوم نہیں کہ یہ کس نے کیا ہے۔

گزشتہ ماہ بھی شام میں باغیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے کہا تھا کہ حلب شہر میں درجنوں نوجوانوں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں جنہیں گولی مار کر ہلاک کیا گیا تھا۔

برطانیہ میں سرگرم انسانی حقوق کی تنظیم سیرین آبزرویٹری کا کہنا تھا کہ باغیوں کے کنٹرول والے ضلع بستان القصر میں ایک دریا کے کنارے کم از کم 56 لاشیں برآمد ہوئیں۔

ان میں زیادہ تر لوگوں کے ہاتھ ان کی کمر پر باندھے گئے تھے اور انہیں گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا تھا۔

حقوقِ انسانی کے کارکنوں نے اس ہولناک دریافت کی ویڈیو یو ٹیوب پر جاری کی تھی۔

خیال رہے کہ شام میں مارچ سال دو ہزار گیارہ سے جاری تنازع میں اقوام متحدہ کے مطابق ساٹھ ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔