وردک:متعدد افغان اور امریکی کمانڈوز ہلاک

آخری وقت اشاعت:  پير 11 مارچ 2013 ,‭ 13:47 GMT 18:47 PST

گزشتہ برس نیٹو کے 60 سے زائد فوجی افغان سکیورٹی اہلکاروں کی فائرنگ سے ہلاک ہوئے

افغان اور امریکی ذرائع کے مطابق ایک افغان سکیورٹی اہلکار نے فائرنگ کر کے متعدد امریکی اور افغان کمانڈوز کو ہلاک کر دیا ہے۔

افغانستان میں تعینات غیر ملکی افواج ایساف کے مطابق یہ واقعہ افغانستان کے مشرقی صوبے وردک کے ایک دوردراز فوجی اڈے پر پیش آیا اور اس میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

عسکری ذرائع کے مطابق حملہ آور اہلکار کو موقع پر ہی ہلاک کر دیا گیا ہے جبکہ امریکی فوج نے اس حملے کو ’غداری اور دھوکہ‘ قرار دیا ہے

گزشتہ برس کے دوران نیٹو کے 60 سے زائد فوجی افغان سکیورٹی اہلکاروں کی فائرنگ سے ہلاک ہوئے تھے۔

امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ہلاک شدگان میں امریکی فوج کے خصوصی دستوں کے دو ارکان شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق حملہ آور نے امریکی اور افغان کمانڈوز کو اس وقت نشانہ بنایا جب وہ پیر کی صبح ملنے کے لیے اکٹھے ہوئے۔

کابل میں موجود بی بی سی کے کوئنٹن سمرویل کا کہنا ہے کہ ابتدائی اطلاعات سے لگتا ہے کہ یہ کسی افغان اہلکار کی جانب سے غیرملکی فوجیوں یا اپنے ساتھیوں کو نشانہ بنائے جانے کی اہم ترین وارداتوں میں سے ایک ہے۔

افغان صوبہ وردک وہی صوبہ ہے جہاں موجود امریکی فوج کے خصوصی دستوں کو افغان حکومت نے اپنے فوجیوں پر تشدد اور ان کی گمشدگیوں کی خبروں کے بعد چلے جانے کو کہا تھا۔

ادھر افغان دارالحکومت کابل میں پولیس کا کہنا ہے کہ ایساف کے ایک قافلے میں شامل فوجیوں کی فائرنگ سے دو شہری ہلاک اور ایک زخمی ہوا ہے۔

ایساف کے مطابق فوجیوں نے فائرنگ اپنے دفاع میں اس وقت کی جب ان شہریوں نے قافلے کی جانب سے کی گئی تنبیہ کو نظرانداز کیا۔

خیال رہے کہ افغان صدر بارہا شہری ہلاکتوں پر امریکی اور اتحادی افواج پر تنقید کر چکے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔