لیبیا:زہریلی شراب پینے سے اکاون افراد ہلاک

آخری وقت اشاعت:  منگل 12 مارچ 2013 ,‭ 01:27 GMT 06:27 PST

لیبیا میں شراب کی فروخت اور استعمال غیر قانونی ہے

لیبیا میں حکام کے مطابق دارالحکومت طرابلس میں زہریلی شراب پینے سے کم از کم اکاون افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ گھر میں تیار کردہ دیسی شراب پینے سے سنیچر سے اب تک تین سو اٹھہتر افراد کو ہسپتال لایا گیا ہے۔

حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

ہسپتال کے حکام نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہسپتالوں میں زیرعلاج کئی مریضوں کے گردوں کی صفائی کی جاری ہے۔

خیال رہے کہ لیبیا میں شراب کی فروخت اور استعمال غیر قانونی ہے لیکن یہ بلیک مارکیٹ میں دستیاب ہوتی ہے۔

حکام کے مطابق اڑتیس افراد دارالحکومت طرابلس میں ہلاک ہوئے جبکہ تیرہ افراد ہمسایہ ملک تیونس علاج کے لیے لیجاتے ہوئے راستے میں ہلاک ہو گئے۔

لیبیا میں بوکا نامی دیسی شراب مختلف پھلوں سے تیار کی جاتی ہے۔

لیکن طرابلس میں بی بی سی کی نامہ نگار راعنا جواد کے مطابق اس شراب کا نشہ بڑھانے کے لیے اس میں صعنتتی استعمال کے تیار ہونے والا سپرٹ میتھونول استعمال کیا جاتا ہے۔

اس طرح کی شراب پینے کے نتیجے میں گردوں کا ناکارہ ہونا،نابینا ہونے اور موت کا خطرہ ہوتا ہے۔

لیبیا کے وزیر داخلہ حیسن ال ایمری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ سکیورٹی فورسز کے خصوصی دستوں نے ان علاقوں کو گھیرے میں لے لیا ہے جہاں خیال کیا جاتا ہے کہ شراب تیار کی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر مالکان نے جگہ خالی کرنے کے حوالے سے تعاون نہ کیا تو طاقت کا استعمال کیا جائے گا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔