شام کےمسلح گروہوں میں بچوں کی بھرتی

آخری وقت اشاعت:  بدھ 13 مارچ 2013 ,‭ 02:37 GMT 07:37 PST

شام میں بچوں کو بنیادی امداد تک رسائی بھی حاصل نہیں ہے: سیو دی چلڈرن

بچوں کی فلاح کے لیے کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیم سیو دی چلڈرن نے کہا ہے کہ شام میں ایسے بچوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے جنہیں مسلح فریقین بھرتی کر رہے ہیں۔

سیو دی چلڈرن کی جانب سے جاری کی جانے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شام میں بچوں کو بار برداری، محافظ کے طور پر، معلومات جمع کرنے اور لڑائی کے لیے جبکہ بعض معاملات میں انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

تنظیم کے ایک اندازے کے مطابق شام میں اس وقت بیس لاکھ بچوں کو امداد کی ضرورت ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ شام میں جاری تنازعے کی وجہ سے زندگی کے تمام پہلو متاثر ہوئے ہیں۔

ترکی سے تعلق رکھنے والے محققین کے مطابق چار میں تین شامی بچوں نے انٹرویو میں بتایا کہ لڑائی میں ان کا کم از کم ایک عزیز ہلاک ہوا ہے۔

رپورٹ ’بچپن گولیوں کی زد میں‘ میں مزید کہا گیا ہے کہ بہت سارے بچوں کو طبی سہولیات تک رسائی نہیں ہے اور وہ مخدوش حالات میں زندگی گزار رہے ہیں جہاں بیماری لاحق ہونے کے امکانات زیادہ ہیں۔

ان بچوں کے خاندان خوراک کے حصول کی جدو جہد کر رہے ہیں کیونکہ بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے خوراک غریب لوگوں کی پہنچ سے باہر ہو گئی ہے۔

ایک نسل ضائع ہونے کا خطرہ

بچوں کے لیے کام کرنے والے اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف نے بھی خبردار کیا ہے کہ شام میں جاری تنازع کی وجہ سے وہاں پوری ایک نسل ضائع ہو سکتی ہے کیونکہ اٹھارہ سال سے کم عمر بچے صرف تشدد کو جانتے ہوئے بڑے ہو رہے ہیں اور وہ تعلیم کے حق سے محروم ہیں اور زندگی بھر خوف کے حالت میں رہ سکتے ہیں۔

اس رپورٹ میں بچوں کے تعلیم کے ضمن میں بتایا گیا ہے کہ شام میں دو ہزار کے قریب سکول تباہ ہونے یا عارضی کیمپوں میں تبدیل ہونے سے بچوں کی تعلیم متاثر ہو رہی ہے۔

لڑائی میں شامی بچے فراموش کردہ متاثرین ہیں جنہیں موت اور صدمے کا سامنا ہے اور بنیادی امداد سے محروم ہیں۔

تنظیم نے بچوں کی امداد کے لیے بین الاقوامی برادری سے اپیل کی ہے لیکن اس کے ساتھ کہا ہے کہ بچوں کی مشکلات کو جنگ کے انجام سے ختم کیا جا سکتا ہے۔

تنظیم کے مطابق تنازعے میں مسلح فریقین کی جانب سے اٹھارہ سال سے کم عمر بچوں کو بھرتی کرنے کے تناسب میں اضافہ ہو رہا ہے۔

سیو دی چلڈرن کےمطابق کئی بچے اور ان کے خاندان اس کو باعثِ فخر سمجھتے ہیں لیکن بعض بچوں کو عسکری سرگرمیوں میں حصہ لینے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

حزب اختلاف کے ایک گروپ کے مطابق تنازعے کے آغاز سے اب تک مسلح فریقین کے لیے کام کرنے والے سترہ بچے ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ کئی بری طرح زخمی یا عمر بھر کے لیے معذور ہو چکے ہیں۔

بچوں کے لیے کام کرنے والے اقوامِ متحدہ کے ادارے یونی سیف نے بھی خبردار کیا ہے کہ شام میں جاری تنازعے کی وجہ سے وہاں پوری ایک نسل ضائع ہو سکتی ہے کیونکہ اٹھارہ سال سے کم عمر بچے صرف تشدد کو جانتے ہوئے بڑے ہو رہے ہیں اور وہ تعلیم کے حق سے محروم ہیں اور زندگی بھر خوف کی حالت میں رہ سکتے ہیں۔

خیال رہے کہ اقوامِ متحدہ کے مطابق شام میں دو سال سے جاری تنازعے میں ستر ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔