شارک سے کشتی کرنے والے کی چھٹی

آخری وقت اشاعت:  بدھ 13 مارچ 2013 ,‭ 14:45 GMT 19:45 PST

پال اپنی بیوی ونڈی اور بیٹی راچل کے ساتھ چھٹیاں منانے آسٹرلیا گئے

برطانیہ میں ایک خیراتی ادارے کے کارکن کو ذہنی دباؤ کی بیماری کا بہانہ بنا کر آسٹریلیا میں چھٹیاں منانے کے الزام میں نوکری سے نکال دیا گیا ہے۔

ادارے کی انتظامیہ نے باسٹھ سالہ پال مارشل کی آسٹریلیا میں شارک کے ساتھ کشتی کرتے ہوئے ویڈیو دیکھی تھی۔

مرتھر تیڈفل سے تعلق رکھنے والے پال مارشل نے بلکوک بیچ پر اس وقت شارک مچھلی کو دم سے پکڑ کر گہرے پانی کی طرف گھسیٹا جب شارک پانی میں تیرتے بچوں کی طرف بڑھ رہی تھی۔

ان کی دلیرانہ کوشش کو دنیا بھر کے میڈیا نے دکھایا اور لائف گارڈز نے بھی ان کی تعریف کی۔

جب پال سمندر کی طرف دوڑے اور شارک کو دم سے پکڑ کر گھسیٹ رہے تھے تو ان کی ویڈیو بنائی گئی تھی۔ جس کو دیکھ کر ان کے ادارے پینٹ اینڈ ڈولیس بوائز اینڈ گرلز کلب نے اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کے الزام میں انھیں نوکری سے برخاست کر دیا۔

پال نے جو اس خیراتی ادارے کے سابق پراجیکٹ کوارڈینیٹر ہیں کہا کہ ’اگر میں اس دن ساحل پر بچوں کو بچانے کے لیے پانی میں نہ جاتا تو میری نوکری بچ جاتی۔‘

"اگر میں اس دن بیچ پر بچوں کو بچانے کے لیے پانی میں نہ جاتا تو میری نوکری بچ جاتی۔"

پال مارشل

پال نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ہم سخت ذہنی دباؤ کا شکار تھے اور کوئی راستہ نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ ’ہمارے ڈاکٹر نے ہمیں چھٹیوں پر جانے کا مشورہ دیا اس لیے ہم اپنے دوست کے پاس آسٹریلیا چلے گئے۔‘

پال نے کہا، ’میں نے ایک منٹ کے لیے بھی نہیں سوچا تھا کہ شارک کے ساتھ کُشتی کی وجہ سے میری نوکری چلی جائے گی۔‘

خیراتی ادارے کی ترجمان نے اس معاملے پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ جبکہ پال مارشل کو ادارے کی انتظامیہ کی طرف سے بھیجے گئے خط میں جسے بی بی سی نے دیکھا ہے، کہا گیا تھا کہ’ آپ کام کرنے کے قابل نہیں تھے لیکن پھر بھی آپ اس قابل تھے کہ آپ نے آسٹریلیا تک سفر کیا اور منظرِ عام پر آنے والی فوٹیج میں آپ نے مبینہ طور پر شارک کو دم سے پکڑا اور چلانگ لگا کر بمشکل اپنی جان بچائی۔ یہ تصاویر اور فوٹیج میڈیا پر دکھائی گئی ہیں۔‘

پال مارشل نے بتایا کہ ان کو ایک اور خط بھی موصول ہوا ہے جس میں لکھا گیا تھا کہ’ٹرسٹیز کے اعتماد کو ٹھیس پہنچانا اور اپنا اعتماد کھونا اتنا بڑا واقعہ ہے کہ ہمارے پاس آپ کو نوکری سے فارغ کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔