کرزئی کی تقریر کے بعد ایساف ہائی الرٹ پر

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 14 مارچ 2013 ,‭ 13:35 GMT 18:35 PST

افغانستان میں نیٹو کی قیادت میں تعینات ایساف فورسرز کو اس خدشے کے پیشِ نظر ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔

ایساف فوجیوں کو بھیجی گئی ایک ای میل میں ایساف کے جنرل جوزف ڈن فورڈ نے صدر حامد کرزئی کی حالیہ تقریر کو اشتعال انگیز قرار دیا اور کہا کہ ان کی وجہ سے افغان فوجی بھڑک سکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ حفاظتی اقدامات میں اضافے کا ایک سبب شدت پسندوں کی جانب سے حملوں میں اضافہ بھی ہے۔

کابل میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہےکہ افغان صدر قیدیوں کی حوالگی کے معاملے میں تاخیر کے باعث کافی جھنجھلاہٹ کا شکار ہیں۔ انہوں نے اس تاخیر کو افغان حکومت کو کمزور کرنے کی ایک کوشش قرار دیا۔

اس سے پہلے افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے امریکہ اور طالبان کے خلاف سخت نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا تھا کہ دونوں سنہ دو ہزار چودہ کے بعد خوف کے خدشات کے بیج بو رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اتوار کو ہونے والے خودکش حملے اس نظریے سے کیے گئے تھے کہ افغانستان میں غیر ملکی افواج کے قیام کو طول دیا جا سکے۔

ملک بھر میں نشر ہونے والی تقریر میں ان کا کہنا تھا کہ ’طالبان کے نام پر ہونے والے بم دھماکے غیر ملکیوں کے مفاد میں تھے اور افغانستان میں ان کے مزید قیام کے حق میں تھے جو کہ ہمیں دھمکا کر انہیں افغانستان میں روکنے کے لیے کیے گئے تھے‘۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔