اسرائیل: مخلوط حکومت بنانے پر اتفاق

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 14 مارچ 2013 ,‭ 10:18 GMT 15:18 PST

جنوری میں ہونے والے انتخابات میں وزیراعظم نیتن یاہو کی لیکود پارٹی کو پارلیمان کی کم سیٹیں ملیں۔

اسرائیل کے لیکود پارٹی کی خاتون ترجمان کے مطابق وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کی مخلوط حکومت بنانے کے لیے دو سیاسی جماعتوں سے سمجھوتا ہو گیا ہے۔

لیکود پارٹی کی ترجمان نوگا کاٹز نے جمعرات کو کہا کہ لیکود بیتینو مرکز کی طرف جھکاؤ والی یش آدت اور دائیں بازو کی جیوش ہوم پارٹیوں کے ساتھ مل کر اتحادی حکومت بنائیں گی۔

یش آدت جماعت کی قیادت سیاست میں نووارد یئیر لاپیڈ اور جیوش ہوم کی قیادت کروڑ پتی نفتالی بینیٹ کر رہے ہیں۔

اس اتحاد میں سابق وزیرِ خارجہ زپی لیونی کا مرکز کی طرف رجحان رکھنے والا دھڑا بھی شامل ہو گا۔ اتحاد کو پارلیمان کے 120 ارکان میں سے 68 کی حمایت حاصل ہو گی۔

توقع ہے کہ اتحادیوں کے مابین معاہدے پر دستخط کرنے کی تقریب جمعرات کو ہو گی اور نئی حکومت آئندہ ہفتے امریکی صدر براک اوباما کے دورے سے پہلے اقتدار سنبھال لے گی۔

یاد رہے کہ اسرائیل میں جنوری میں انتخابات ہوئے تھے جس میں حیران کن طور پر مرکز کی طرف جھکاؤ رکھنے والی سیاسی جماعتوں نے پارلیمان میں زیادہ نشستیں حاصل کیں اور وزیراعظم نیتن یاہو کی لیکود کو کم نشستیں ملیں۔

نیتن یاہو کے روایتی حریف انتہائی قدامت پسند سیاسی جماعتیں اب اس اتحاد میں شامل نہیں ہوں گی۔

ان قدامت پسند جماعتوں کا یش آدت اور جیوش ہوم جماعتوں کے ساتھ معاشی سہولیات اور مذہبی یہودیوں کے لیے لازمی فوجی خدمات کے قوانین پر اختلاف ہے۔

یہ سمجھوتا وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو کی طرف سے نئے حکومت کا اعلان کرنے کے لیے دیے گئے تاریخ سے تین پہلے ہوا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔