شامی تنازعے کے دو سال: اسلحے پر پابندی ہٹانے پر غور

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 15 مارچ 2013 ,‭ 04:34 GMT 09:34 PST

عمان میں شامی تنازعے کی دوسری سالگرہ کا اہتمام کیا گیا

شام میں جاری شورش کی دوسری سالگرہ کے موقعے پر یورپی یونین شام کو اسلحے کی فراہمی پر پابندی ہٹا کر باغیوں کو ہتھیار فراہم کرنے پر غور کرے گی۔

فرانس اور برطانیہ کے رہنما برسلز میں ہونے والے سربراہی اجلاس میں اس ضمن میں دوسرے ارکان کو آمادہ کرنے کی کوشش کریں گے۔

اس کے علاوہ روس کے ساتھ تعلقات پر بھی غور کیا جائے گا جو شامی باغیوں کو ہتھیار فراہم کرنے کی شدت سے مخالفت کرتا ہے۔

دو سال قبل صدر بشارالاسد کی حکومت کے خلاف بغاوت شروع ہونے کے بعد سے اب تک تقریباً 70 ہزار افراد مارے جا چکے ہیں، جب کہ دس لاکھ افراد ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

شام میں جاری شورش 15 مارچ 2011 کو جنوبی شہر درعا میں شروع ہوئی تھی۔

اس وقت باغی شام کے بہت سے علاقوں پر قابض ہیں، تاہم تنازع کئی مہینوں سے تعطل کا شکار ہے۔

دنیا کے کئی ملکوں میں تنازعے کی دوسری سالگرہ کے موقعے پر تقاریب منعقد کی گئیں۔ جنوبی کوریا کے شہر سول اور اردن کے شہر عمان میں بھی تقاریب ہوئیں۔ عمان میں سیو دا چلڈرن کے زیرِ اہتمام ہونے والی تقریب میں بچے قلعے کے سامنے کھڑے ہوئے۔

اردن کے ایک طالب علم آیا خرفان نے کہا، ’ہم شامی بچوں اور لوگوں کی مدد کے لیے ایک اہم پیغام دینے کے لیے یہاں جمع ہوئے ہیں۔ ہم سب ان کے ساتھ ہیں اور یہ تنازع ایک نہ ایک دن ضرور ختم ہو گا۔‘

فرانسیسی صدر فرانسوا اولاند اور برطانوی وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون جمعے کو برسلز میں ہونے والے اجلاس میں اسلحے پر پابندی اٹھانے پر غور کریں گے۔ البتہ شام باضابطہ ایجنڈے کا حصہ نہیں ہے۔

پیرس میں بات کرتے ہوئے فرانسیسی صدر نے کہا کہ’ ہم باغیوں کی مدد کرنے کو تیار ہیں اور اس حد تک جانےکو تیار ہیں۔‘

انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ برطانیہ اور فرانس اس معاملے پر رضامند ہیں لیکن دیگر یورپی ممالک کو قائل کرنا ہو گا۔

روس یورپی اتحاد میں شامل نہیں لیکن شامی حکومت کا حامی ہے۔ وہ شامی حزب اختلاف کو کسی بھی طریقے سے مسلح کرنے کے خلاف ہے۔

فرانسیسی صدر نے برسلز میں یورپی رہنماؤں سے ملاقات کرنے سے پہلے کہا کہ’ ہمارے خیال میں سیاسی طریقے سے اقتدار کی منتقلی شام کے مسئلے کا حل ہے لیکن اس کے ساتھ ایک ایسی حکومت کو لوگوں کا قتل عام کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی جو سیاسی طور پر اقتدار کی منتقلی نہیں چاہتی۔‘

انھوں نے کہا، ’فرانس کے خیال میں شام کو ہتھیار مہیا کیے جا رہے ہیں، خاص طور روس کی جانب سے صدر بشار الاسد کی حکومت کو۔‘

"ہمارے خیال میں سیاسی طریقے سے اقتدار کی منتقلی شام کے مسئلے کا حل ہے لیکن اس کے ساتھ ایک ایسی حکومت کو لوگوں کا قتل عام کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی جو سیاسی طور پر اقتدار کی منتقلی نہیں چاہتی۔"

فرانسیسی صدر فرانسوا اولاند

انھوں نے مزید کہا کہ فرانس کا مقصد مکمل جنگ نہیں ہے بلکہ حکومت پر دباؤ میں اضافہ کرنا ہے۔

ایک برطانوی اہل کار نے کہا کہ اسلحے پر پابندی ’گمراہ کن‘ ہے۔ انھوں نے کہا، ’پابندی ان کو نہیں روکتی جو اسد کو اسلحہ فراہم کر رہے ہیں، لیکن ان کو روک رہی ہے جو حزبِ اختلاف کی مدد کرنا چاہتے ہیں۔‘

برطانیہ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ مئی میں پابندی میں توسیع کرنے پر رائے شماری کو ویٹو کر سکتا ہے۔ وزیرِ اعظم کیمرون نے کہا ہے کہ ’یہ بات خارج از امکان نہیں ہے کہ ہمیں چیزیں اپنے انداز میں کرنا پڑیں گی۔‘

فرانس اور برطانیہ کا خیال ہے کہ روس اور ایران شامی حکومت کو اسلحہ فراہم کر رہے ہیں۔ برسلز میں بی بی سی کے نامہ نگار کرس مورس کہتے ہیں کہ حزبِ اختلاف کو اسلحہ فراہم کرنا بشار الاسد پر دباؤ ڈالنے کا واحد طریقہ ہے۔

ہمارے نمائندے کے مطابق آسٹریا اور سویڈن پابندی ختم کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔

ادھر اقوام متحدہ کے انسانی حقوق سے متعلق ادارے کی انڈر سیکریٹری ولیری ایموس نے ہتھیاروں کی فروخت پر پابندی ختم کرنے کے امکان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مزید لڑائی کی صورت میں ان کا کام مزید مشکل ہو جائے گا۔

اس کے علاوہ کئی ممالک نے ہتھیاروں کی فراہمی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس صورتحال میں شام میں جاری تنازع مزید شدت اختیار کر جائے گا۔

روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے ایک ٹوئیٹ میں کہا، ’شام اس وقت انسانی بحران اور المیے میں پھنسا ہوا ہے، مسئلے کو حل کرنے کے لیے حزب مخالف کو مسلح کرنے کی کوئی آپشن نہیں ہے۔‘

شام نے بھی فرانس کی تجویز پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین کی کھلے عام خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔