سائبر حملوں کے پیچھے امریکہ ہے: شمالی کوریا

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 15 مارچ 2013 ,‭ 08:13 GMT 13:13 PST

12 فروری کو شمالی کوریا کے جوہری تجربے کے بعد کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے

شمالی کوریا نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں پر الزام لگایا ہے کہ اس نے شمالی کوریا کے انٹرنیٹ سرورز پر سائبر حملے کیے ہیں۔

خبررساں ادارے کے سی این اے کے مطابق ’شدید اور متواتر‘ حملے اس دوران ہوئے جب امریکہ اور جنوبی کوریا مشترکہ فوجی مشقیں کر رہے تھے۔

اطلاعات کے مطابق کے سی این اے، ایئر کوریو اور سرکاری جماعت کے اخبار کی ویب سائٹیں حالیہ دنوں میں بند رہی ہیں۔

گذشتہ ہفتے شمالی کوریا نے اپنا تیسرا جوہری تجربہ کیا تھا جس کے بعد کشیدگی میں اضافہ ہو گیا تھا۔

اس تجربے کے بعد شمالی کوریا پر اقوامِ متحدہ کی جانب سے نئی تبدیلیاں عائد کی گئی تھیں، جس کے جواب میں شمالی کوریا نے اقوامِ متحدہ اور سالانہ فوجی مشقوں کے خلاف تند و تیز بیان بازی کی تھی۔

شمالی کوریا کا کہنا ہے کہ اس نے جنگِ کوریا کا التوائے جنگ اور جنوبی کوریا کے ساتھ عدم جارحیت کا معاہدہ ختم کر دیا ہے، اور دونوں ملکوں کے درمیان ہاٹ لائن منقطع کر دی ہے۔

1950 تا 1953 جاری رہنے والی جنگ کے بعد شمالی و جنوبی کوریا تکنیکی طور پر حالتِ جنگ میں ہیں۔ جنوبی کوریا کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا یک طرفہ طور پر التوائے جنگ کو ختم نہیں کر سکتا۔ اس نے مطالبہ کیا ہے کہ شمالی کوریا اپنا لہجہ نرم کرے۔

شمالی کوریا نے سائبر حملوں کو ’بزدلانہ اور قابلِ نفرت عمل‘ قرار دیا ہے۔

کے سی این اے نے کہا ہے، ’یہ بات کوئی راز نہیں ہے کہ امریکہ اور جنوبی کوریا کی کٹھ پتلی حکومت اپنی سائبر طاقت میں اضافہ کر رہے ہیں تاکہ شمالی کوریا کے خلاف تخریبی اور سبوتاژ کی کارروائیوں میں تیزی لائی جا سکے۔‘

جنوبی کوریا کے دارالحکومت سول میں موجود بی بی سی کی نامہ نگار لوسی ولیم سن کا کہنا ہے کہ عام طور پر جزیرہ نما کوریا میں سائبر حملوں کے الزامات مخالف سمت میں سفر کرتے ہیں۔

جنوبی کوریا کے انٹیلی جنس ذرائع کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا معمولاً جنوبی کوریا کے نیٹ ورکس تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔

ہمارے نامہ نگار کے مطابق شمالی کوریا نے گذشتہ چند برسوں میں کم از کم ایک دفعہ وزارتِ دفاع کے ڈیٹا تک رسائی حاصل کی ہے۔

شمالی کوریا میں عوام کے لیے انٹرنیٹ بے حد محدود ہے، اور اکثریت صرف گنی چنی سرکاری ویب سائٹوں ہی دیکھ پاتی ہے۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔