چین:مردہ سؤروں کی تعداد 9 ہزار

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 16 مارچ 2013 ,‭ 14:45 GMT 19:45 PST

چین کے شہر شنگھائی میں دریا سے برآمد ہونے والے مردہ خنزیروں کی تعداد نو ہزار تک پہنچ گئی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ صرف سنیچر کو ہی دریائے وانگ پو سے چھ سو سے زائد سؤروں کی لاشیں نکالی گئی ہیں۔

اس دریا سے شنگھائی کے شہریوں کو پانی فراہم کیا جاتا ہے تاہم چینی حکام کا کہنا ہے کہ یہ پانی محفوظ ہے اور انہیں کسی وبائی مرض کے کوئی ثبوت نہیں ملے ہیں۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ سؤروں کی لاشیں شنگھائی سے سو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع شہر جیازنگ سے آ رہی ہیں۔

جیازنگ کی مقامی حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے جمعہ تک علاقے کے دریاؤں اور سڑکوں کے کنارے سے ساڑھے تین ہزار مردہ سؤر مل چکے ہیں اور ان کی ہلاکت کی وجوہات کے حوالے سے تحقیقات ابھی جاری ہیں۔

ماحولیات کے ایک اہلکار نے سرکاری اخبار گلوبل ٹائمز کو بتایا کہ’پانی کو آلودہ ہونے سے بچانے کے لیے ہمیں تمام مردہ سوروں کو باہر نکالنے میں جلدی کرنا ہو گی۔‘

شنگھائی کی میونسپل حکومت کا کہنا ہے کہ وانگ پو کا پانی پینے کے لیے بھی محفوظ ہے۔ حکومت کے مطابق انہیں شنگھائی کے بازاروں میں بھی کسی مریض سور کی کوئی اطلاع نہیں ملی ہے۔

تاہم چین میں مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ویبو پر اس معاملے پر خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

ایک صارف نے لکھا ہے کہ ’حکام ِ بالا ہم آپ کی خدمت کے لیے تیار ہیں لیکن ہمیں زہرخورانی سے مرنے نہ دیں ورنہ آپ کی خدمت کون کرے گا؟‘

ایک اور صارف نے کہا ہے کہ ’دریا کا رنگ فضلے جیسا ہوگیا ہے۔ اگر وہاں مردہ خنزیر نہ بھی ہوں تو یہ پینے کے قابل نہیں۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔