اوباما کا دورۂ اسرائیل: ’ایران پر سخت موقف‘

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 21 مارچ 2013 ,‭ 01:46 GMT 06:46 PST

براک اوباما اور نتن یاہو

امریکی صدر اوباما کے پہلے دورہِ اسرائیل کے موقعے پر امریکی اور اسرائیلی صدور نے ایران پر مشترکہ اور سخت موقف اختیار کیا ہے۔

یروشلم میں بات کرتے ہوئے دونوں رہنماؤں نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اسرائیل کے پاس ’خود اپنے دفاع کا اختیار‘ موجود ہے۔

دونوں رہنماؤں نے اسرائیل اور فلسطین کے مسئلے کے حل کے لیے دو ریاستی حل کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔

جمعرات کے دن صدر اوباما رام اللہ میں فلسطینی صدر محمود عباس سے ملاقات کریں گے۔

اس سے قبل بن گوریان ہوائی اڈے پر اسرائیلی وزیرِاعظم بن یامن نتن یاہو اور صدر شمعون پیریز نے صدر براک اوباما کا استقبال کیا۔

اس کے بعد صدر براک اوباما کو وہ میزائل شکن دفاعی نظام دکھایا گیا جسے ’آہنی گنبد‘ کہا جاتا ہے۔

یروشلم میں مذاکرات کے بعد نتن یاہو نے کہا کہ وہ اس بات کی بہت قدر کرتے ہیں کہ امریکی صدر نے اپنی دوسری مدتِ صدارت کے بعد پہلا بیرونی دورہ اسرائیل کا کیا ہے۔

انھوں نے صدر اوباما کا شکریہ ادا کیا کہ انھوں نے ’ہمارے تعلقات اور دونوں ممالک کے درمیان تعلق کو پختہ بنانے کے لیے محنت کی ہے۔‘

امریکی صدر براک اوباما نے اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بن یامین نتن یاہو نے کہا کہ دونوں ممالک کے اہداف مشترکہ ہیں۔

صدر اوباما نے کہا کہ ان کے اور اسرائیل کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔

صدر نتن یاہو نے صدر اوباما کے ایران پر موقف پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ انھوں نے کہا کہ انھیں ’پورا یقین‘ ہے کہ صدر اوباما ایران کو جوہری طاقت بننے سے روکنے کے لیے کلی طور پر پرعزم ہیں۔

اسرائیلی صدر نے کہا کہ وہ اور صدر اوباما دونوں شام کو پرامن اور مستحکم دیکھنا چاہتے ہیں اور یہ نہیں چاہتے کہ شام کے کیمیائی ہتھیار دہشت گردوں کے ہاتھ لگیں۔

نتن یاہو کی حکومت کی تشکیل کو ابھی صرف دو دن ہوئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ وہ فلسطینیوں کے ساتھ امن کے متمنی ہیں: ’ہم فلسطینی عوام کی طرف امن اور دوستی کا ہاتھ بڑھاتے ہیں۔‘

انھوں نے امید ظاہر کی کہ امریکی صدر کے دورے سے فلسطینیوں کے ساتھ تعلقات کا نیا باب شروع ہو گا۔

صدر اوباما نے کہا کہ اسرائیلی کی سلامتی ایک ’سنجیدہ فرض‘ ہے۔

انھوں نے کہا کہ اسرائیل کو فوجی امداد دینے پر بات چیت کی جائے گی اور امریکہ آہنی گنبد کے لیے مزید 20 کروڑ ڈالر کی رقم فراہم کرے گا۔

"مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کے لیے ایک مضبوط اور محفوظ یہودی ریاست کا قیام ضروری ہے جس کے ساتھ ساتھ ایک خودمختار فلسطینی ریاست بھی موجود ہو۔"

صدر اوباما

انھوں نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کے لیے ’ایک مضبوط اور محفوظ یہودی ریاست کا قیام ضروری ہے جس کے ساتھ ساتھ ایک خودمختار فلسطینی ریاست بھی موجود ہو۔‘

ایران کے بارے میں انھوں نے کہا: ’ہم اپنے اہداف پر متفق ہیں، یعنی ایران کو جوہری اسلحہ حاصل نہ کرنے دینا۔‘

انھوں نے کہا، ’ہم اس (تنازعے) کو سفارتی ذرائع سے حل کرنا چاہتے ہیں، اور اس کے لیے ابھی وقت موجود ہے۔‘ تاہم انھوں نے مزید کہا کہ ایرانی رہنماؤں کو ’یہ سمجھنا چاہیے کہ انھیں اپنی عالمی ذمے داریاں نبھانی ہوں گی۔‘

انھوں نے امریکہ کے اس موقف کا اعادہ کیا کہ وہ ’ایران کو دنیا کے بدترین ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے کچھ بھی کر سکتے ہیں۔‘

یروشلم میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار وائر ڈیوس کہتے ہیں کہ دونوں رہنماؤں نے اس تاثر کو زائل کرنے کی کوشش کی کہ بعض معاملات میں ان کے درمیان اختلاف موجود ہے۔

انھوں نے کہا کہ دونوں کے درمیان اس بات پر اب بھی اختلاف موجود ہے کہ آیا ایران کا مسئلہ سفارت کاری سے حل کیا جا سکتا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔