جاسوسی کے الزام میں اٹھارہ افراد گرفتار

آخری وقت اشاعت:  بدھ 20 مارچ 2013 ,‭ 06:13 GMT 11:13 PST

سعودی عرب میں حکام کا کہنا ہے کہ ایک ایران، ایک لبنانی اور سولہ سعودی شہریوں کو جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔

سعودی عرب کی وزارتِ داخلہ کے ترجمان نے سرکاری ٹیلی ویژن کو بتایا کہ اٹھارہ مشتبہ افراد’ایک ریاست کے لیے جاسوس کے سیل میں شامل تھے‘۔

وزارتِ داخلہ کے ترجمان منصور ال ترکی کے مطابق’یہ افراد ملک میں تنصیبات اور اہم علاقوں کے بارے میں معلومات حاصل کر کے اس ریاست کی انٹیلی جنس ایجنسی کو فراہم کر رہے تھے‘۔

تاہم ترجمان نے جاسوسی کے نیٹ ورک کو چلانے والے ملک کا نام نہیں لیا۔

کلِک ’سی آئی اے سعودی عرب سے ڈرون حملے کر رہی ہے‘

حکام کا کہنا ہے کہ ان افراد کو چار دن پہلے گرفتار کیا گیا تھا اور عدالتی حکام کے حوالے کرنے سے پہلے ان سے تفتیش کی جا رہی ہے۔

وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک علیحدہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اٹھارہ مشتبہ جاسوس دارالحکومت ریاض اور مقدس شہر مکہ میں بیک وقت اور ایک منظم آپریشن میں گرفتار کیا گیا۔

بیان کے مطابق گرفتاریاں ملک کے مشرقی صوبے میں بھی کی گئیں جہاں شیعہ مسلمان اکثریت میں ہیں۔

تیل کے ذخائر سے بھرپور مشرقی سعودی عرب میں سال دو ہزار گیارہ میں حکومت مخالف مظاہرے شروع ہوئے تھے اور ان مظاہروں میں متعدد افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے تھے۔

سعودی عرب سنی اکثریتی ملک اور اس کے شیعہ اکثریتی ملک ایران سے تعلقات اکثر تناؤ کا شکا رہے ہیں اور دونوں ممالک کے تعلقات اس وقت زیادہ کشیدہ ہو گئے تھے جب گذشتہ سال سعودی عرب نے خلیجی ملک بحرین میں شیعہ آبادی کی شورش کو کچلنے کے لیے اپنی فوج وہاں بھیجی تھی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔