چینی صدر اپنے پہلے غیر ملکی دورے پر روس پہنچ گئے

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 22 مارچ 2013 ,‭ 04:36 GMT 09:36 PST

صدر شی جی پنگ اپنے اس بین اقوامی دورے میں تنزانیہ، جنوبی افریقہ اور کانگو ریپبلک بھی جائیں گے

چین کے نو منتخب صدر شی جن پنگ اپنے پہلے غیر ملکی دورے پر جمعہ کو روسپ پہنچ گئے ہیں۔

دورے سے پہلے انہوں نے چین اور روس کو اہم ترین سٹریٹیجک یا تزویری شراکت دار قرار دیا ہے۔

نمائندوں کا کہنا ہے کہ شی جن پنگ کا ماسکو کو اپنے دورے کا پہلا پڑاو چننے کو چین کی طرف سے ایشیا میں امریکی اثر رسوخ کو کم کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

دریں اثناء امید کی جا رہی ہے کہ اس دورے میں شی جن پنگ اور روسی صدر ولادی میر پیوتن دونوں ملکوں کے درمیان گیس پائپ لائن بچھانے کے معاملے پر گفتگو کریں گے تاکہ چین اپنی توانائی کی ضروریات کو روس کے گیس کے وسیع زخائر سے پورا کر سکے۔

اس بات کا بھی امکان ہے کہ دونوں صدور شام میں جاری خانہ جنگی اور شمالی کوریا کے جوہری پروگرام پر بھی گفتگو کی کریں۔

"چین اور روس کے تعلقات ایک نئے دور میں داخل ہوگئے ہیں جس میں دونوں ممالک ایک دوسرے کے لیے بڑے ترقیاتی مواقع فراہم کرتے ہیں"

شی جی پنگ، تو منتخب چینی صدر

یاد رہے کہ دونوں ممالک کے مابین باہمی تجارت بڑھ رہی ہے اور گذشتہ سال ان کے درمیان اٹھاسی ارب ڈالر کا ریکارڈ تجارت ہوئی تھی۔

شی جی پنگ نے ایک پریس کانفرنس میں روس کو ’دوست پڑوسی ملک‘ کے طور پر یاد کیا اور کہا کہ ان کا صدارت سنبھالنے کے بعد اتنی جلدی روس کا دورہ کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ’چین روس کے ساتھ تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ’چین اور روس کے تعلقات ایک نئے دور میں داخل ہوگئے ہیں جس میں دونوں ممالک ایک دوسرے کے لیے بڑے ترقیاتی مواقع فراہم کرتے ہیں۔‘

صدر شی جی پنگ اپنے تیس مارچ تک بین الاقوامی دورے میں تنزانیہ، جنوبی افریقہ اور کانگو ریپبلک بھی جائیں گے۔

جنوبی افریقہ میں وہ 25 اور 26 مارچ کو منعقد ہونے والے پانچویں بریکس سربراہی اجلاس میں بھی شرکت کریں گے۔ بریکس بی آر آئی سی ایس کا مطلب ہے برازیل، روس، انڈیا، چین، اور ساوتھ افریقہ جو دنیا کی پانچ بڑی ابھرتی ہوئیں معاشی طاقتیں ہیں۔

چین افریقہ کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار بن گیا ہے اور اس نے امریکہ اور افریقہ کے مابین روایتی تجارتی شراکت دار یوپی ممالک کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

شی جی پنگ نے کہا کہ’چین اور افریقہ کا تعاون جامع ہے جس کی وجہ سے افریقہ کی بین الاقوامی ساکھ کو تقویت ملی ہے۔‘

خیال رہے کہ شی جی پنگ کو گذشتہ ہفتے انتقالِ اقتدار کے لمبے عمل کے بعد چین کے صدر منتخب ہوئے تھے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔