عالمی’ارتھ آور‘ پر روشنیاں گُل

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 23 مارچ 2013 ,‭ 13:40 GMT 18:40 PST

اس سال پاکستان سمیت 157 ممالک کے چھوٹے بڑے شہروں میں ارتھ آور منایا جا رہا ہے

پوری دنیا میں آج ارتھ آور یا زمین کا گھنٹہ منایا جارہا ہے جس کے تحت دنیا بھر میں معیاری وقت کے مطابق رات ساڑھے آٹھ بجے ایک گھنٹے کے لیے بتیاں بند کی گئی ہیں۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف کے مطابق رواں سال پاکستان سمیت 157 ممالک کے چھوٹے بڑے شہروں میں ارتھ آور منایا جا رہا ہے۔ گزشتہ سال 147 ممالک نے ارتھ آور میں حصہ لیا تھا۔

ارتھ آور منانے کا مقصد ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے عوامی شعور اجاگر کرنا ہے۔

دنیا بھر میں ماحولیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں کرہ ارض کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے جس کے سبب ماحول پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔

ماحول پر اثر انداز ہونے والے ان عوامل سے آگاہی کے لیے 2007 میں آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں ایک تحریک کا آغاز کیا گیا تھا جس کا مقصد دنیا میں تیزی سے توانائی کے وسائل میں کمی اور توانائی کی پیداوار سے ماحول پر پڑنے والے مضر اثرات سے عوام کو آگاہی تھا۔

عالمی سطح پر ارتھ آور کا آغاز 2009 میں کیا گیا۔ اس سال اٹھاسی ممالک کے تقریباً چار ہزار شہروں میں گھریلو و تجارتی اداروں کی غیر ضروری بتیاں بند کردی جائیں گی۔

دنیا بھر کی طرح پاکستان میں ارتھ آور بھرپور طریقے سے منایا جاتا ہے۔ ایوان صدر، ایوان وزیراعظم اور پارلیمنٹ ہاؤس سمیت نجی اور سرکاری عمارتوں میں رات ساڑھے آٹھ بجے سے ساڑھے نو بجے تک بتیاں بجھائی جاتی ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔