برما: ہلاکتیں چالیس، مزید تین شہروں میں کرفیو

برما میں جاری نسلی فسادات ملک کے سب سے بڑے شہر رنگون کے قریب پہنچ گئے ہیں جبکہ حکومت نے مزید تین شہروں میں کرفیو نافذ کر دیا ہے۔

رنگون سے پئے جانے والی شاہراہ پر موجود شہروں میں بدھوں کا مشتعل ہجوم مسلمانوں کی مساجد اور املاک پر حملے کر رہا ہے۔

دریں اثناء سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق وسطی برما میں جاری نسلی فسادات کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد چالیس ہو گئی ہے۔

اخبار نیو لائٹ آف برما کے مطابق میکتیلا شہر میں سکیورٹی فورسز کو مشتعل ہجوم کی جانب سے نذآتش کیے جانے والی املاک کا ملبے صاف کرتے ہوئے مزید آٹھ لاشیں ملی ہیں۔

امریکی نے اپنے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ برما میں فسادات سے متاثرہ علاقوں میں سفر کرنے سے گریز کریں۔

پیر کو برما سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق بدھ کو شروع ہوئے نسلی فسادات مزید علاقوں میں پھیل گئے ہیں اور مسجدوں اور مکانوں کو لوٹا اور نقصان پہنچایا گیا۔

اطلاعات کے مطابق اس تشدد کا آغاز بدھ کے روز اس وقت ہوا جب ایک سنار کی دکان پر ہونے والی بحث طول پکڑ گئی۔ اس کے بعد مشتعل ہجوم نے مسلمانوں کی ملکیتی عمارتوں کا آگ لگادی جن میں مسجدیں بھی شامل تھی۔

اس کے بعد مخالف گروہوں میں گلیوں میں دست بدست لڑائیاں شروع ہو گئیں۔

پیر کو رنگون سے پچاس کلومیٹر دور اوح دی کون قصبے میں تین سو افراد نے مسجدوں اور مکانوں پر دھاوا بولا۔ ان افراد نے مسلمانوں کے مکانات اور دکانیں نذرِ آتش کر دیں۔

یاد رہے کہ قصبے میکتیلا میں بدھوں اور مسلمانوں کے درمیان بدھ کو شروع ہونے والے نسلی فسادات کے واقعات کے بعد ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی تھی۔

دوسری جانب برما کی حکومت کا کہنا ہے کہ نسلی فسادات ختم ہو جانے چاہیئیں کیونکہ ان فسادات کی وجہ سے جمہوری اصلاحات کو نقصان پہنچے گا۔

برما کے سرکاری ٹی وی چینل پر حکومتی بیان پڑھ کر سنایا گیا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ ان فسادات کو روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گی۔

بی بی سی کے جنوب مشرقی ایشیا کے نامہ نگار جوناتھن ہیڈ کا کہنا ہے ان واقعات نے گذشتہ سال میں رخائن کی ریاست میں ہونے والے نسلی فسادات کی یاد تازہ کر دی ہے جس کے نتیجے میں دو سو کے قریب افراد ہلاک ہو گئے تھے اور ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کو علاقہ چھوڑ کر فرار ہونا پڑا تھا۔

رخائن ریاست میں ہونے والے فسادات بدھ اور روہنگیا مسلمانوں کے درمیان ہوئے تھے جنہیں برما کے شہری تسلیم نہیں کیا جاتا ہے۔ ان واقعات کے بعد سے لاکھوں افراد ان تشدد کے واقعات سے بچنے کے لیے وطن ترک کر گئے ہیں۔

حکومت نے اب تک اس تنازعے کے حل کے لیے کوئی طویل المدت منصوبہ پیش نہیں کیا ہے۔

بڑھتا ہوا خوف اور بدھ اور ملک کی مسلمان اقلیت کے درمیان پائے جانے والے عدم اعتماد کے نتیجے میں ملک کے سیاسی ماحول کے متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔ دو سال قبل ہی ملک میں جمہوری حکومت برسراقتدار آئی ہے۔

میکتیلا کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ پولیس کو ان فسادیوں پر قابو پانے میں بہت مشکل کا سامنا ہے جو چھڑیوں اور چاقوؤں سے مسلح ہیں۔

ان بلوائیوں میں سے اکثر افراد بدھ ہیں جو ایک بدھ بھکشو کی ہلاکت پر برہم ہیں جو بدھ کے روز بری طرح جھلس کر ہلاک ہوگئے تھے۔

اسی بارے میں