اسرائیل فلسطین امن، اوباما کے الفاظ کی قوت

شدید ترین حالات میں کسی موضوع پر الفاظ کی شدت بہت معنی رکھتی ہے اور یہی امریکی صدر اوباما نے بہت ماہرانے انداز میں کیا جب انہوں نے ایک طرح کے ہمدردی کے جذبے سے سرشار فصاحت اور بلاغت کے ساتھ کسی حد تک مشکوک اسرائیلی عوام کو مسحور کیا۔

مگر کیا ان الفاظ میں اس قدر قوت ہے کہ وہ اسرائیل کو فلسطینیوں کے ساتھ واپس مذاکرات کی میز پر لے کر جا سکیں؟

ستائیس سالہ ایوینوم روزنباؤم نے جواب دیا کہ ’اس پر شاید ہم ایک گہرا، لمبا سانس لینا پڑے گا‘۔ ایوینوم ان چھ سو سے زیادہ اسرائیلی طلبا میں سے ایک تھے جنہوں نے صدر اوباما کی تقریر کو سنا تھا جب وہ گزشتہ دنوں اسرائیل اور فلسطینی علاقوں کے تین روزہ دورے پر تھے۔

’میں ابھی بھی اس سب کچھ کو ہضم کرنے کی کوشش کر رہا ہوں‘ ایونیوم نے مجھے یہ بتایا جب وہ ہمارے یروشلم کے سٹوڈیو میں تشریف لائے اور ان کے حال سے لگ رہا تھا کہ وہ اب بھی اُس اثر میں تھے کہ انہیں تاریخ کے اہم موقعے کو صفِ اول میں بیٹھ کر مشاہدہ کرنے کا موقع ملا۔

صدر اوباما نے بہت مہارت سے ’اسرائیل کی داستان‘ کا بیانیۂ آزادی تشکیل دیا جو ایک بہت ہی متاثر کر دینے والے انداز میں بُنا گیا تھا جس کا آغاز یہودیوں کی مُقدس عیدالفصح سے ہوا اور پھر انہوں نے اسرائیل کی ریاست کے قیام کی بات کی اور بلاخر یہ فلسطینیوں کے لیے ایک ریاست کے حق کی بات پر منتج ہوا ’جس میں انہیں آزادی اور اختیار ہو‘۔

ایوینوم نے براہ راست صدر اوباما کا پیغام سنا جس میں انہوں نے ’اسرائیل کی نوجوان نسل کو اس عظیم قوم کی تاریخ کا اگلا باب لکھنا چاہیے‘ ۔

باتوں باتوں میں ایک اکیس سالہ فلسطینی طالبِ علم کرما ابو عیاش ذکر ہماری گفتگو کا حصہ بنا جنہوں نے اس تقریر کو مغربی کنارے کے شہر رام اللہ شہر میں ٹی وی پر دیکھا۔

انہوں نے رام اللہ میں ہمارے سٹوڈیو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’اس تقریر نے ہمیں امید دلائی‘۔

صدر اوباما نے جانبین کو براہ راست مذاکرات شروع کرنے کا کہا اور کہا کہ براہ راست مذاکرات ہی اس منزل تک لے کر جا سکتے ہیں جو کہ ’دو قوموں کے لیے دو ریاستیں‘ ہے۔

ایک دوسرے کی جگہ اپنے آپ کو رکھنا

Image caption صدر اوباما نے اپنی تقریر میں اسرائیلی طلبا کو کہا تھا کہ ’اپنے آپ کو اُن (فلسطینیوں) کی جگہ رکھ کر سوچیں۔‘

میں نے ایوینوم اور کرما سے پوچھا کہ اگر وہ مذاکرات کی میز پر ایک دوسرے کے آمنے سامنے بیٹھیں تو وہ ایک دوسرے سے کیا کہیں گے؟

کرما نے زور دے کر کہا کہ ’آپ کو ضرور کوشش کرنی چاہیے کے مقبوضہ حالت میں زندگی کیسے گزرتی ہے‘ اور ان کی بات میں مجھے صدر اوباما کی تقریر کی بازگشت بھی سنائی دی جن انہوں نے اسرائیلی عوام سے کہا کہ وہ ’اپنے آپ کو اُن (فلسطینیوں) کی جگہ رکھ کر سوچیں۔‘

ایوینوم کا جواب بھی اسی طرح پرزور تھا کہ ’ہمیں مستقبل پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے اور یہ کہ اس معاملے میں کوئی ایک معصوم یا گناہ گار نہیں ہے۔‘

ایوینوم نے صدر اوباما کی جانب سے امن کی تعریف منصفانہ ہونے کی تائید بھی کی۔

ایک نوجوان فلسطینی جو بزنس پڑھ رہی ہیں اور ایک اسرائیلی نوجوان جو سفارت کاری میں ماسٹرز ڈگری کر رہا ہے نے پرانی نسلوں

کے جزبات ہی اپنی باتوں میں بہت حد تک دہرائے جنہوں نے دہائیوں پر محیط تشدد سہا ہے جس میں لڑائیاں اور زہر بھرا رہا ہے۔

ٹپی لِیونی کیا صرف ایک ستر پوش؟

Image caption سابق اسرائیلی وزیر خارجہ ٹپی لِونی جو ان چند اسرائیلی سیاستدانوں میں سے ایک ہیں جنہوں نے حالیہ انتخابات میں معطل شدہ امن مذاکرات کی بات کی۔

جو خاتون ان مذاکرات کے دوبارہ شروع ہونے پر مذاکرات کی میز پر اسرائیل کی نمائندگی میں بیٹھیں گیں انہوں نے بھی امید نو کا اظہار کیا۔

یہ خاتون ہیں اسرائیل کی مرکزی مذاکرات کار ٹپی لِونی جنہوں نے کہا کہ ’صدر اوباما نے امن قائم کرنے کی کوششوں کو ایجنڈہ پر واپس لایا ہے‘ اور انہوں نے صدر اوباما کی تقریر کی تعریف کرتے ہوئے اس کو ’شاندار‘ قرار دیا۔

سابق اسرائیلی وزیر خارجہ ٹپی لِونی جو ان چند اسرائیلی سیاستدانوں میں سے ایک ہیں جنہوں نے حالیہ انتخابات میں معطل شدہ امن مذاکرات کی بات کی اور اب انہوں نے اپنے مخالف بنیامن نتنیاہو کی کابینہ میں وزیر انصاف کا عہدہ قبول کیا ہے۔

انہوں نے اس بات کی تردید کی کہ وہ ایک ستر پوش یعنی صرف نام کی وزیر ہیں اُس کابینہ میں جس میں آبادکاریوں کے حامی اراکین اور قدامت پسند سیاسی رہنماؤں کی اکثریت ہے جو امن کے مخالف ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’میں اس کابینہ میں شامل نہ ہوتی اگر مجھے پتہ ہوتا کہ بی بی (نتن ہاہو) کو آگے بڑھنا چاہتے ہیں اور اس کی اہمیت سمجھتے ہیں۔‘

مگر جب میں نے ان سے پوچھا کہ کیا وہ صدر اوباما کے اس نظریے سے اتفاق کرتی ہیں کہ یہودی بستیاں امن کے حصول کے لیے غیر موزوں ہیں تو انہوں نے جواباً صرف اس بات پر اکتفا کیا کہ اسرائیل کی نئی حکومت کو اپنی مذاکراتی ترجیحات طے کرنے کی ضرورت ہے۔

اسرائیل میں یہودی بستیوں کے حامی رہنما دانی دایان جنہیں صدر اوباما کی تقریر کے مدعو کیا گیا تھا اس بارے میں کافی واضع موقف رکھتے تھے۔

ہمارے دفتر میں بیٹھ کر انہوں نے کہا کہ ’ہمیں زیادہ ٹونی بلئیر اور کم جان کیری کی ضرورت ہے‘۔

دانی دایان کے نزدیک یہ فلسطینی اداروں کی تعمیر اور معاشی تعاون کی بات ہے نہ کہ جیسے نئی امریکی وزیر خارجہ اسے دیکھتے ہیں اور اس مسئلے کو کلی طور پر حل کرنا چاہتے ہیں جسے دانی رد کرتے ہیں۔

مگر فلسطینیوں کے نزدیک بستیوں اور آبادکاریوں کے الفاظ بہت اہم ہیں اور ان کے لیے صدر اوباما کی بات بہت مایوس کُن تھی۔

ایک فلسطینی ممبر پارلیمان مصطفیٰ برغوتی کے قریب یہ معاملہ یہودی بستیوں اور مذاکرات میں سے ایک کے درمیان چناؤ کا ہے اور انہوں نے کہا کہ ’مقبوضہ زمین پر یہودی بستیوں کی مسلسل تعمیر دو ریاستی حل کی موت ہے‘۔

حقیقی ساتھی کون؟

Image caption دونوں فریقوں کے درمیان اعتماد کی کمی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔

فلسطینیوں کے لیے اوباما کی کم اثر رکھنے والی باتیں ایک قدم پیچھے جانے کے مترادف تھی جنہوں نے دو ہزار نو میں اوباما کے یہودی آبادیوں پر مکمل پابندی کے موقف کو بہت سراہا تھا۔

صدر اوباما نے بطور صدر فلسطینی علاقوں کے پہلے دورے پر ایسے مذاکرات کے لیے کہا ’جو ایسے فارمولوں اور عادتوں سے ہٹ کر بات کرنے پر ہوں جنہوں نے بہت عرصے سے بہتری کا راستہ روکا ہے۔‘

اس تمام عمل میں موجود ان ضدی خالی جگہوں پر توجہ اب جان کیری دیں گے جو صدر اوباما کی واپسی کے بعد خطے میں رکے ہیں۔ جان کیری نے واضع کیا ہے کہ وہ اس مشکل ترین مشن پر وقت اور کوششیں صرف کرنے کے لیے تیار ہیں۔

تجربہ کار فلسطینی سیاست دان حنان اشراوی نے تبصرہ کیا کہ ’جان کیری پہلے ہی سب کو جانتے ہیں اور امریکیوں کے پاس اب بھی امن قائم کرنے کا موقع ہے مگر صرف اس صورت میں کہ وہ اسرائیل کے سامنے کھڑا ہو۔‘

اسرائیلی وزیراعظم کی جانب سے ’دو قوموں کے لیے دو ریاستوں‘ کے حل پر بہت سوں کو شکوک و شبہات ہیں اگرچہ انہوں نے یہی الفاظ اوباما کے ساتھ کھڑے ہو کر ادا کیے تھے۔

گزشتہ ہفتے کے تمام مصافحوں اور معانقوں کے باوجود نتن یاہو کی باتوں میں صدر اوباما کے بیان کی جھلک نہیں دکھائی دی کہ ’اسرائیل کے پاس فلسطینی صدر محمود عباس اور وزیر اعظم سلام فیاد کی صورت میں امن کے لیے بہترین ساتھی موجود ہیں۔‘

نتن یاہو کے کئی اعلیٰ نائبین ان شکوک کو رد کتے ہیں اور ان میں سے ایک نے کہا کہ ’میں نے کئی بار انہیں وہی بات دہراتے ہوئے سنا ہے جو ایریل شیرون نے کہی تھی۔‘

حصولِ امن کے لیے دو مختلف راستے

Image caption امریکی صدر اوباما کے الفاظ کی جتنی مرضی قوت اور اثر ہو مگر حقیقی تبدیلی کے لیے قوت اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کی جانب سے آئے گی۔

سابق اسرائیلی رہنما ایریل شیرون نے جو بات کی تھی وہ یہ تھی کہ ’یہ بات ناممکن ہے کہ ایک جمہوری یہودی ریاست ہو اور وہ بیک وقت تمام آریتز کے علاقے پر اختیار بھی رکھے‘ اسی بات کی جانب صدر اوباما نے اپنی تقریر میں اشارہ بھی کیا تھا۔

ایک اسرائیلی اہلکار نے کہا کہ ’میں پرامید ہوں کہ امن مذاکرات دوبارہ شروع ہوں گے مگر میں اس بات کا یقین نہیں رکھتا کہ یہ مذاکرات حکمتِ عملی کی سطح پر شروع ہوں گے کیونکہ یہ وہ موقع ہے جب دباؤ شروع ہوتا ہے‘۔

مگر انہوں نے اضافہ کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر امریکی صدر گیند فلسطینیوں کی جانب دھکیلتے ہیں تو وہ احمق ہوں گے اگر اس کو نہ لیں۔‘

بہت سے فلسطینی جن میں نوجوان طالبِ علم کرما بھی شامل ہیں نے صدر اوباما کے رام اللہ کے دورے کی جانب اشارہ کیا جہاں انہیں گارڈ آف آنر دیا گیا اور دونوں ممالک کے تارنے بجائے گئے جو ان کے نزدیک ایک ’فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا ہے‘۔

ایوینوم کے لیے امن کے لیے ایک دوسرا راستہ ہے اور انہوں نے کہا کہ ’الفاظ میں قوت ہوتی ہے مگر بنیادی لفظ ہے اعتماد اور ہم بارہا ایک دوسرے پر اعتماد کرنے میں ناکام رہے ہیں۔‘

امریکی صدر اوباما کے الفاظ کی جتنی مرضی قوت اور اثر ہو مگر حقیقی تبدیلی کے لیے قوت اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کی جانب سے آئے گی۔

اور صدر اوباما یہ جانتے ہیں۔

اسی بارے میں