ابوقتادہ کو برطانیہ بدر کرنے کی کوشش ناکام

Image caption ابوقطادہ اور برطانوی وزیرِ داخلہ ٹیریسا مے

برطانوی وزیرِ داخلہ ٹیریسا مے کو ایک شدت پسند مسلمان مبلغ کو ملک بدر کرنے کی طویل جد و جہد کے آخری مرحلے میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

ابو قتادہ نامی یہ شدت پسند اردن میں دہشت گردی کے الزامات میں مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔

لندن کی عدالت نے یہ فیصلہ دیا ہے کہ حکومت ان لوگوں کو ملک بدر نہیں کر سکتی جن پر بیان لینے کے لیے تشدد کیے جانے کا خدشہ ہو۔

وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ وہ ابو قتادہ کو ملک بدر کرنے کے سلسلے میں پر عزم ہے، اور اس فیصلے کے خلاف اپیل کرے گی۔

وزارتِ داخلہ کے ایک ترجمان نے کہا، ’اس دوران ہم اردن کے ساتھ مل کر ملک بدری کی راہ میں حائل قانونی مسائل کو حل کرنے کی کوشش کریں گے۔‘

اپنے فیصلے میں لارڈ ڈائسن نے کہا کہ ابوقتادہ کو اردن بھیجنے سے ’انصاف کی عدم فراہمی کا واضح خطرہ موجود ہے۔‘

ججوں نے کہا کہ عدالت یہ تسلیم کرتی ہے کہ قتادہ ’کو بہت خطرناک شخص سمجھا جاتا ہے،‘ لیکن یہ بات انسانی حقوق کے قوانین کے تحت ’غیر متعلق‘ ہے۔

ابوقتادہ اب جیل سے رہائی کی اپیل دائر کر سکتے ہیں جہاں انھیں امیگریشن کے قوانین کے تحت رکھا گیا ہے۔

اپریل 1999 میں ابوقتادہ پر اردن میں ان کی غیرموجودگی میں دہشت گردی کے الزام کے تحت مقدمہ چلایا گیا تھا اور انھیں عمر قید کی سزا دی گئی تھی۔

ابوقتادہ کے وکلا نے عدالت کو بتایا کہ برطانیہ کو کسی شخص کو ایک ایسے ملک میں نہیں بھیجنا چاہیے جس کا ’انسانی حقوق کا ریکارڈ مشکوک ہو۔‘

انھوں نے کہا کہ اس بات کی ’ٹھوس اور پرزور شہادت موجود ہے‘ کہ ان کے موکل کو بیان دینے کے لیے تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

اسی بارے میں